عوام پر مہنگائی کا نیا وار — صابن بھی مہنگے، روزمرہ اخراجات میں اضافہ

نئی دہلی: ملک کی معروف ایف ایم سی جی کمپنی ہندوستان یونی لیور لیمیٹیڈ نے صابن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عام صارفین پر ایک اور مہنگائی کا بوجھ پڑ گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق خام مال، پیکیجنگ اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات کے باعث یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
اطلاعات کے مطابق لیریل، پیئرس اور ڈو جیسے مقبول برانڈز کی قیمتوں میں 100 گرام پر تقریباً 2 سے 3 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جو کہ اوسطاً 3 سے 5 فیصد بنتا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق لیریل صابن 41 روپے، پیئرس 42 روپے، جبکہ ڈو سیرم صابن 60 روپے اور ڈو پنک صابن 70 روپے تک پہنچ گیا ہے۔
کمپنی نے صرف صابن ہی نہیں بلکہ دیگر مصنوعات جیسے سرف اور ریڈ لیبل چائے کی قیمتوں میں بھی جزوی اضافہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال جی ایس ٹی شرح میں تبدیلی کے بعد کمپنی نے قیمتوں میں کمی کی تھی، تاہم اب بین الاقوامی حالات کے باعث دوبارہ اضافہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق صابن کی تیاری میں استعمال ہونے والا اہم خام مال پام فیٹی ایسڈ ڈسٹلیٹ (PFAD) کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ پام آئل کی قلت اور عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ ہے۔ اس کے علاوہ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی کشیدگی، سپلائی چین میں رکاوٹیں، ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات نے بھی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔
کمپنی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ بڑھتی لاگت کے باوجود صارفین پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم موجودہ حالات میں قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگیا تھا۔



