بھارت میں آبی بحران کی دستک

تحریر: سید سرفراز احمد
بھارت کی معیشت کا انحصار مانسون کی بارش پر ہوتا ہے۔ مانسون محض موسمی تبدیلی نہیں بلکہ زراعت، دیہی معیشت، پینے کے پانی اور غذائی تحفظ کی بنیاد ہیں۔ جب بارش معمول سے کم ہوتی ہے تو اس کے اثرات کھیتوں سے نکل کر کسانوں کی آمدنی، بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور عام شہریوں کی زندگی تک پہنچتے ہیں۔ سال 2026 میں مانسون کی کم بارش نے ملک کے کئی حصوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ خصوصاً تلنگانہ اور مہاراشٹر کی صورت حال اس لیے اہم ہے کہ دونوں ریاستوں کے وسیع علاقوں میں زراعت اور دیہی روزگار کا انحصار بارش پر ہے۔
بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق جون سے ستمبر 2026 کے دوران ملک میں معمول سے تقریباً 12.6 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں مانسون کی کم ترین سطحوں میں شامل ہے۔ ماہرین نے اس صورت حال کے ممکنہ اسباب میں ال نینو کے اثرات کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ سوال ہے ال نینو کیا ہے؟ ال نینو بحرالکاہل (Pacific Ocean) کے پانی کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے کا ایک موسمیاتی رجحان ہے۔ جو دنیا بھر میں بارش، درجۂ حرارت اور موسم کے نظام کو متاثر کرتا ہے
تاہم کم بارش کا مطلب یہ نہیں کہ پورا ملک یکساں طور پر خشک سالی کا شکار ہے۔ اصل صورت حال ہر ریاست اور اضلاع میں بارش کی تقسیم، زمین میں نمی اور آبی ذخائر پر منحصر ہے۔
ہمارے ملک میں جنوبی ہند کی تلنگانہ، کرناٹک، ٹامل ناڈو کے علاوہ مہاراشٹر، پنجاب، ہریانہ، راجستھان، اترپردیش اور گجرات میں آبی بحران کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ تلنگانہ میں 2026 کا مانسون تشویش ناک رہا۔ ریاست میں 27 ستمبر تک 615.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ معمول کی بارش 726.7 ملی میٹر تھی۔ یعنی اس مدت میں تقریباً 15 فیصد کمی رہی۔ بعد کی رپورٹوں میں ریاست کے مجموعی مانسون کے دوران بارش کی کمی تقریباً 17 فیصد بتائی گئی، جبکہ 33 میں سے 18 اضلاع میں معمول سے کم بارش ریکارڈ ہوئی۔ اس صورت حال نے آب پاشی، زیرِ زمین پانی اور پینے کے پانی کی دستیابی کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے 15 اکتوبر 2026 کو ریاست میں بارش کی کمی، ال نینو کے ممکنہ اثرات اور پانی کے بحران پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک بڑے قدرتی بحران کا خدشہ قرار دیا۔ انہوں نے کسانوں اور عوام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ پانی کی قلت کے پیش نظر خاص طور پر دھان کی کاشت فی الحال ملتوی کریں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اگلے 8 سے 10 ماہ ریاست کو پانی اور بجلی کی قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے ممکنہ بحران کی سنگینی سمجھانے کے لیے کووڈ وبا کے دور سے تشبیہ دی۔ ان کے مطابق کرشنا طاس میں پانی کی دستیابی گزشتہ سال کے مقابلے میں 72 فیصد اور گوداوری طاس میں 40 فیصد کم ہے۔ جو گزشتہ سال اکتوبر میں دستیاب تقریباً 460 ٹی ایم سی پانی کے مقابلے میں اس سال تقریباً 209 ٹی ایم سی پانی رہ گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں وہ کل جماعتی وفد کے ساتھ دہلی جاکر مرکزی حکومت سے مالی اور انتظامی مدد طلب کریں گے۔
تلنگانہ کے کسانوں کے لیے مسئلہ صرف بارش کی مجموعی کمی نہیں بلکہ اس کا غیر یکساں ہونا اور طویل خشک وقفے بھی ہیں۔ کپاس، سویا بین، دھان اور دیگر فصلوں کی پیداوار پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ جہاں فصلوں کو مناسب وقت پر پانی نہیں ملا وہاں پیداوار میں کمی اور کاشت کے اخراجات میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ ریاست میں آبی ذخائر کی صورت حال بھی اہم ہے۔ اگر ذخائر میں پانی کم ہو اور زیرِ زمین پانی کی سطح گرتی جائے تو ربیع کی فصلوں کی بوائی متاثر ہوسکتی ہے۔ تلنگانہ کے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے بھی اکتوبر میں ال نینو کے ممکنہ اثرات اور پانی کی قلت کے خدشات کے پیش نظر کسانوں کو ربیع کی کاشت میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں قحط سالی کی صورت حال پیدا ہوچکی ہے۔ اس کے لیے ضلع وار بارش، فصلوں کے نقصان، زمین میں نمی اور آبی ذخائر کے باقاعدہ جائزے ضروری ہیں۔
اگر ہم مہاراشٹر کی صورت حال دیکھتے ہیں تو بعض علاقوں میں تلنگانہ سے بھی زیادہ سنگین دکھائی دیتی ہے۔ انڈین ایکسپریس کی 26 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ریاست میں معمول سے تقریباً 18 فیصد کم بارش ہوئی، جس کے بعد حکومت نے 358 میں سے 265 تعلقوں میں خشک سالی کا اعلان کیا۔ ریاست کے تمام علاقوں میں بارش کی کمی یکساں نہیں رہی۔ مراٹھواڑہ میں معمول سے تقریباً 38 فیصد اور ودربھ میں 27 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ شولہاپور، دھاراشیو، لاتور، ہنگولی، جالنہ اور بیڑ جیسے علاقوں میں بعض مقامات پر بارش معمول کے تقریباً نصف کے برابر رہی۔ اس کے برعکس مغربی مہاراشٹر اور ناسک کے بعض علاقوں میں نسبتاً بہتر یا زیادہ بارش ہوئی۔
اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ خشک سالی کا مسئلہ صرف ریاستی اوسط سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ بلکہ کسی ریاست میں مجموعی بارش نسبتاً بہتر ہو، تب بھی اس کے مخصوص علاقے شدید پانی کی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ مراٹھواڑہ اور ودربھ میں سویا بین کی فصل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مراٹھواڑہ میں پیداوار معمول کے مطابق 40 سے 50 فیصد اور ودربھ میں 60 سے 70 فیصد تک رہنے کا تخمینہ پیش کیا گیا۔ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو کسانوں کی آمدنی اور مقامی منڈیوں پر اس کے نمایاں اثرات پڑسکتے ہیں۔ طویل مدت میں تیار ہونے والی تور کی دال جیسی فصلوں کو بھی زمین میں نمی کی کمی سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
خشک سالی کے اثرات صرف فصلوں تک محدود نہیں رہتے۔ فصل خراب ہونے سے کسان کی آمدنی کم ہوتی ہے، قرض کی ادائیگی مشکل ہوجاتی ہے اور اگلی فصل کے لیے بیج، کھاد اور آب پاشی پر خرچ کرنا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ اگر پیداوار کم ہو تو بعض غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بھی پیدا ہوتا ہے۔ جو زمین پر عملی طور بھی نظر آرہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں چاول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ وہیں پر دیگر اشیاء دالیں شکر وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
دوسری جانب، پانی کی قلت سے مویشیوں کے لیے چارے اور پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔ دیہی علاقوں میں زرعی مزدوروں کو کام کم ملنے لگتا ہے، جس سے روزگار کے لیے شہروں کی طرف نقل مکانی بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس طرح بارش کی کمی ایک موسمی مسئلے سے بڑھ کر معاشی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ جو حکومتوں کے لیئے سخت امتحان کی گھڑی بھی کھڑا کرسکتی ہے۔
موجودہ صورت حال میں ملک کی جتنی ریاستیں آبی بحران سے دوچار ہونے والی ہیں خصوصیت کے ساتھ تلنگانہ اور مہاراشٹر کی حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کی بروقت نشاندہی کریں، کسانوں کو فصلوں کے نقصان کا معاوضہ دینے کے اقدامات کریں، فصل بیمہ کی ادائیگیوں میں تاخیر نہ ہونے دیں اور پینے کے پانی کی فراہمی کو اولین ترجیح دیں۔
ساتھ ہی دستیاب پانی کے استعمال میں احتیاط، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، تالابوں کی بحالی، زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال پر قابو پانے اور کم پانی میں تیار ہونے والی فصلوں پر توجہ دینا ہوگا۔ ربیع کی بوائی سے قبل کسانوں کو مقامی حالات کے مطابق واضح اور قابلِ عمل مشورے فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
تلنگانہ میں بارش کی کمی اور آبی ذخائر پر دباؤ، جبکہ مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ اور ودربھ میں شدید بارش کی قلت، اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ دونوں ریاستوں کو آنے والے مہینوں میں پانی اور زراعت کے حوالے سے سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ خشک سالی کے بڑھتے خطرے کو نظر انداز کرنا کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ حکومتیں ممکنہ بحران کو انسانی اور زرعی تباہی میں تبدیل ہونے سے پہلے کس حد تک مؤثر اقدامات کرتی ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ بارش قدرت کے اختیار میں ہے، مگر پانی کا تحفظ، وسائل کی مساویانہ تقسیم اور کسانوں کی مدد انسانی منصوبہ بندی حکومتی ذمہ داری ہے۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تلنگانہ میں معاملہ محض بارش کی کمی تک محدود نہیں رہا، بلکہ آب پاشی، پینے کے پانی، بجلی اور کسانوں کی آئندہ فصلوں کے تحفظ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ دیکھتے ہیں آبی بحران معمول کی حد تک عوام کو مشکلات میں ڈالتا ہے یا کسی بڑے نقصان میں مبتلاء کرتا ہے؟ لیکن اس بحران سے نمٹنے کے لیئے حکومتوں کے اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی پانی کا استعمال نہایت ہی احتیاط سے کرنا چاہیئے۔
جس کی تعلیمات خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کے ذریعہ بتائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جب وہ وضو کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مَا هَذَا السَّرَفُ؟ حضرت سعدؓ نے عرض کیا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ۔ ’’ہاں، اگرچہ تم بہتی ہوئی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘( سنن ابن ماجہ، حدیث 425) جب وضو جیسی عبادت میں بھی پانی ضائع کرنے سے منع کیا گیا ہے تو روزمرہ زندگی میں پانی کا بے جا استعمال کس قدر قابلِ اجتناب ہوگا اس حدیث سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں۔



