کروز جہاز میں ہنٹا وائرس کا خوف، دو ہندوستانیوں کی موجودگی سے تشویش بڑھ گئی – بھارت کو کوئی خطرہ نہیں
کروز جہاز میں ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر جہاز کے عملے میں دو ہندوستانی شہریوں کی موجودگی سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس معاملے پر بھارت کے قومی ادارۂ وائرس تحقیق کے ڈائریکٹر نوین کمار نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس وائرس کے چند کیسز مختلف مقامات پر سامنے آ رہے ہیں، تاہم فی الحال بھارت کو اس سے کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔ نوین کمار کے مطابق ہنٹا وائرس کا انسان سے انسان میں منتقل ہونا انتہائی نایاب ہے۔ ایشیا اور یورپ میں پائے جانے والے وائرس کی اقسام عام طور پر انسانوں کے درمیان منتقل نہیں ہوتیں، البتہ جنوبی امریکہ کے بعض وائرس اقسام میں محدود انسانی منتقلی ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ وائرس کورونا یا انفلوئنزا کی طرح نہیں ہے۔ ابتدا میں اس کی علامات فلو جیسی ہوتی ہیں اور وائرس سے متاثر ہونے کے ایک سے پانچ ہفتوں کے اندر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
نوین کمار نے بتایا کہ ملک میں ایسے مشتبہ وائرس کیسز کی تشخیص کے لیے ضروری لیبارٹری سہولیات موجود ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ جہازوں، گوداموں، اسٹوریج مراکز اور کم ہوا دار مقامات پر کام کرنے والے افراد صفائی کا خاص خیال رکھیں اور چوہوں والے علاقوں سے دور رہیں۔
دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے کہا کہ اگرچہ یہ صورتحال سنجیدہ ہے، لیکن فی الحال عوامی صحت کے لیے خطرہ محدود دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم وائرس کے پوشیدہ دورانیے کو دیکھتے ہوئے مزید کیسز سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔




