چار معصوم بچوں کے قتل کے دوسرے دن ماں کی نعش برآمد – اترپردیش میں دل دہلا دینے والا واقعہ

امبیڈکر نگر (یوپی) / اتر پردیش کے ضلع امبیڈکر نگر میں ہفتہ کو چار معصوم بچوں کا انتہائی بے دردی سے قتل کردیا گیا. چاروں نعشیں گھر کے ایک کمرہ سے خون میں لت پت برآمد ہوئیں .اس سنسنی قتل نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے اکبرپور کے میران پور محلے میں واقع ایک چار منزلہ گھر کے کمرے سے 14 سالہ شفیق، 10 سالہ سعود، 8 سالہ عمر اور 6 سالہ بانو کی خون میں لت پت نعشیں برآمد ہوئیں، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور تفتیش کا آغاز کیا۔ ابتدائی مرحلہ میں بچوں کی ماں37سالہ نازیہ خاتون واقعہ کے بعد لاپتہ بتائی جا رہی تھیں، جبکہ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ اس افسوسناک واقعہ میں کسی نہ کسی طور پر ملوث ہو سکتی ہیں۔ بچوں کے جسم پر کسی بھاری اور کند چیز، ممکنہ طور پر اینٹ، سے تشدد کے نشانات بھی پائے گئے۔
پولیس کے مطابق بچوں کے والد گزشتہ ڈیڑھ سال سے سعودی عرب میں مقیم ہیں، اور خاندان میں مبینہ طور پر ذاتی و گھریلو تنازعات کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں مقیم محمد نیازی کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایک پاکستانی خاتون سے نکاح کیا تھا، جس کی خبر ملنے کے بعد ان کی اہلیہ نازیہ خاتون شدید ذہنی دباؤ اور غصے میں تھیں۔جنہیں واقعہ کے پس منظر میں دیکھا جا رہا تھا۔
تاہم واقعہ میں اس وقت نیا موڑ آ گیا جب اتوار کے روز پولیس نے ماں نازیہ خاتون کی نعش گھر کے قریب ایک نالے سے برآمد کی۔ پولیس کے مطابق یہ نعش اکبرپور پولیس اسٹیشن علاقے کے میران پور محلے سے ہی ملی، جس کے بعد کیس کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ضلع پولیس سربراہ پراچی سنگھ کے مطابق، واقعہ کے بعد مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت موبائل ریکارڈ کی مدد سے تفتیش جاری تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں کسی تیسرے فرد کے ملوث ہونے کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پولیس نے نازیہ خاتون کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے جبکہ بچوں کی میتیں اتوار کی دوپہر ان کے آبائی گاؤں کاسڈا، مہروہ پہنچائی گئیں، جہاں سینکڑوں افراد نے آخری دیدار کیا اور بعد ازاں ان کی تدفین عمل میں آئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اصل حقائق پوسٹ مارٹم اور فارنسک رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئیں گے، جبکہ تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔




