تلنگانہ

اکریڈیٹیشن کارڈس کی اجرائی میں اردو کے علاوہ متوسط و چھوٹے، اور لسانی اخبارات کے ساتھ ناانصافی- اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن

اکریڈیٹیشن کارڈس کی اجرائی میں اردو کے علاوہ متوسط و چھوٹے، اور لسانی اخبارات کے ساتھ ناانصافی۔

اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کا حکومت سے جی او پر نظرِ ثانی اور مساوی انصاف کا مطالبہ۔

 

حیدرآباد 2 مئی ( پریس ریلز) ریاست تلنگانہ میں صحافیوں کے ایکریڈیٹیشن کارڈس کے اجراء سے متعلق جاری کردہ جی او نمبر 252 اور اس کے بعد دو مرتبہ جاری کئے گئے ترمیمی میموز اردو اخبارات کے علاوہ متوسط و چھوٹے اخبارات، نیوز ایجنسیس اور کیبل چینلس کے ساتھ نا انصافی پر مبنی ہے۔ جی او 252 اور اس کے بعد کے ترامیم بڑے اخبارات اور سٹلائٹ چینلس کے حق میں ہے۔

 

اس میں متوسط، چھوٹے اخبارات، کیبل میڈیا اور نیوز ایجنسیس کے لیے منصفانہ حق نہیں دیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کا نمائندہ وفد جو ایم اے ماجد صدر، ایم اے قادر فیصل نائب صدر، سید غوث محی الدین جنرل سکریٹری اور محمد محسن خازن پر مشتمل تھا نے مکندا ریڈی کمشنر اطلاعت و تعلقات عامہ سے سکریٹریٹ میں ان کے چیمبر میں ملاقات کے دوران کیا۔ وفد نے کمشنر سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور جی او 252 کی خامیوں، شکایتوں اور نا انصافی سے تفصیلی طور پر واقف کروایا۔

 

اس موقع پر ایس وجئے کمار ریڈی صدر پریس کلب حیدرآباد بھی موجود تھے۔ وفد نے اپنی نمائندگی میں کمشنر سے مطالبہ کیا کہ ریاست کے تمام اضلاع میں اردو اخبارات کو کم از کم 15 منڈل کارڈس اور چھوٹے اخبارات و کیبل میڈیا کو اضلاع میں سابق کی طرح بنا کسی شرط اکریڈیٹیشن کارڈ جاری کرنے جی او میں ترمیم کرتے ہوے احکامات جاری کریں۔

 

وفد نے کمشنر کو بتا یا کہ موجودہ جی او میں سنگین خامیاں اور تضادات پائے جاتے ہیں، جن کے باعث صرف بڑے اخبارات اور بڑے سیٹلائٹ چینلس کو فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ چھوٹے، متوسط اور لسانی میڈیا ادارے، کیبل میڈیا اور نیوز ایجنسیس نظر انداز کئے جارہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بعد میں جاری کئے گئے ترمیمی میموز خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ جی او 252 خامیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اگر پالیسی درست اور منصفانہ ہوتی تو بار بار ترمیمات کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

 

حکومت نے اکریڈیٹیشن کارڈس کے اجراء کیلئے صرف سرکولیشن کو بنیاد بناکر چھوٹے اخبارات کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔سرکیولیشن کو کس طرح سے میعار بنا یا گیا غور طلب امر ہے۔ تفصیلات کے مطابق 2 لاکھ 50 ہزار ایک سرکولیشن رکھنے والے بڑے اخبار کو ریاستی سطح پر 30 سے زائد ایکریڈیٹیشن کارڈس اور تمام اضلاع و منڈل سطح کے کارڈس جاری کئے جارہے ہیں، جبکہ صرف ایک کاپی کم یعنی 2 لاکھ 50 ہزار سرکولیشن رکھنے والے اخبار کو محض 17 کارڈس تک محدود کردیا گیا ہے۔

 

انھوں نے سوال کیا کہ صرف ایک اخبار کے سرکولیشن کے فرق پر کارڈس کی قجرائی میں اتنا بڑا فرق پیدا کرنا کس اصولِ انصاف کے تحت درست قرار دیا جاسکتا ہے؟ اسی طرح 25 ہزار سے 75 ہزار سرکولیشن رکھنے والے اخبارات کو ریاستی سطح پر صرف 13 کارڈس اور اضلاع میں محض دو کارڈس فراہم کئے جارہے ہیں جبکہ اضلاع میں صرف ایک منڈل کارڈ دیا جارہا ہے۔متوسط اور چھوٹے اخبارات بھی بڑے اخبارات کی طرح دن محنت کرتے ہیں،

 

نیوز کوریج کے لیے بڑے اخبارات کے مماثل متوسط اور چھوٹے اخبارات کے رپورٹرس وقت صرف کرتے ہیں اور ان اخبارات میں خبریں شائع ہوتی ہیں، متوسط اور چھوٹے اخبارات کے رپورٹرس کا نیٹ ورک تمام منڈلس میں موجود ہے، اس کے باوجود انہیں ان کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ سخت و غیر منصافانہ قوانین کے ذریعہ ورکنگ جرنلسٹس کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

 

خصوصی طور پر اردو، ہندی اور انگریزی جیسے لسانی اخبارات کے ساتھ موجودہ پالیسی کو ناانصافی پر مبنی قرار دیا ہے۔ اردو تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان ہے اور ریاست کی تقریباً 15 فیصد آبادی اردو سمجھتی اور بولتی ہے۔ اردو اخبارات کی سرکولیشن کا تقابل 85 فیصد بولی جانے والی تلگو زبان کے اخبارات سے کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش دور میں اردو میڈیا کو ریاست کے تمام منڈلوں میں ایکریڈیٹییشن کارڈس جاری کئے جاتے تھے تاہم موجودہ پالیسی نے اردو میڈیا کے دائرہ کار کو محدود کرکے رکھ دیا ہے۔

 

نیوز ایجنسیوں کے مسئلہ پر بھی محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ دوہرا معیار اپنایا ہوا ہے۔ جی او 252 میں ضلعی سطح پر نیوز ایجنسیوں کیلئے ایکریڈیٹیشن کارڈس کی سہولت فراہم نہیں کی گئی ہے، لیکن عملی طور پر چند بڑے تلگو اخبارات سے وابستہ نیوز ایجنسیوں کو ضلعی سطح کے کارڈس جاری کئے جارہے ہیں۔ یہ کھلی جانبداری، امتیازی سلوک اور منتخب اداروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے۔محکمہ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط میں کیبل میڈیا کو ضلعی سطح کے ایکریڈیٹیشن کارڈس کیلئے کوئی واضح گنجائش نہیں رکھی گئی، حالانکہ کئی کیبل چینلس اضلاع میں سرگرم صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں. کیبل میڈیا کو سابق کی طرح بنا کسی شرط کے اضلاع میں بھی کارڈ جاری کئے جایں۔ Unempanelled اخبارات کے مسئلہ پر وفد نے بتا کہ جی او 252 میں غیر امپیانلڈ اخبارات کو ایکریڈیٹیشن کارڈس دینے کی وضاحت موجود ہے لیکن محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی آن لائن درخواست ویب سائٹ پر انہیں درخواست دینے کا اختیار ہی فراہم نہیں کیا گیا۔

 

مزید برآں محکمہ کی جانب سے چھ ماہ کی اشاعت اور حاضری جیسی اضافی شرائط عائد کی جارہی ہیں، حالانکہ ان شرائط کا جی او میں کوئی ذکر موجود نہیں۔ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خود اپنی ہی پالیسی سے انحراف کررہا ہے۔ حکومت تلنگانہ وزیر اطلاعات اور کمشنر محکمہ اطلاعات سے مطالبہ کیا ہے کہ جی او 252 کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، تمام خامیوں کو دور کیا جائے۔

 

بڑے، متوسط، چھوٹے، لسانی و علاقائی تمام میڈیا اداروں کے ساتھ مساوی انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر اہل ورکنگ جرنلسٹ کو بلا امتیاز ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کیا جائے تاکہ ورکنگ جرنلسٹس اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ کمشنر اطلاعات و تعلقات عامہ بے وفد کی تفصیلی نمائندگی کی بغور سماعت کی اور نمائندگی کا جائزہ لینے کا تیقن دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button