ثقافتی یلغار اور عصری تقاضوں کے درمیان اسلامی اقدار کا تحفظ ناگزیر: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

ثقافتی یلغار اور عصری تقاضوں کے درمیان اسلامی اقدار کا تحفظ ناگزیر: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، 3 مئی (پریس ریلیز)
عہدِ حاضر کی تیز رفتار تبدیلیوں نے جہاں انسانی زندگی کو بے شمار سہولتوں سے آراستہ کیا ہے، وہیں فکری، تہذیبی اور اخلاقی سطح پر ایک خاموش مگر گہرا انقلاب بھی برپا کر دیا ہے۔ جدیدیت کے دلکش نعروں کے پسِ پردہ بعض تہذیبی یلغاریں درحقیقت معاشرتی اقدار، اخلاقی روایات اور روحانی شناخت کو متزلزل کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ ایسے نازک اور حساس دور میں یہ امر نہایت ضروری ہو چکا ہے کہ ہم اپنی تہذیبی بنیادوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور نئی نسل کو اس فکری یلغار کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات کریں۔
ممتاز ومعروف اسلامی اسکالر، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے صدر دفتر بنجارہ ہلز روڈ نمبر 12 پر منعقدہ ایک فکری نشست بعنوان "ثقافتی حملے اور اس کا تدارک” سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ثقافتی حملہ دراصل ایک منظم نظریاتی یلغار ہے، جو بالعموم مسلمانوں اور بالخصوص نوجوان نسل کے اذہان کو مغربی تہذیب و ثقافت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں نوجوانوں کے معاشی، سماجی اور اخلاقی تصورات تیزی سے بدل رہے ہیں، جس سے خاندانی نظام، معاشرتی اقدار اور دینی شعور کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فحاشی، عریانی اور بے راہ روی کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور حیاء جیسی عظیم صفت زوال پذیر ہو رہی ہے۔ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نے ہماری شناخت کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ اسلامی تشخص محض نام کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
مولانا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس تہذیبی یلغار کے تدارک کے لیے سب سے اہم قدم نئی نسل کے دلوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور سنتِ مطہرہ سے حقیقی محبت اور عملی وابستگی پیدا کرنا ہے۔ عملی اسلام کا ایسا خوبصورت اور دلکش نمونہ پیش کیا جائے جو نوجوانوں کے لیے باعثِ کشش ہو اور انہیں یہ احساس دلائے کہ اسلامی تہذیب ہی ایک بامقصد، متوازن اور باوقار زندگی کی ضامن ہے۔
اسی ضمن میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں خواتین کی شرکت کے حوالے سے درپیش سوالات کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ اسلام نے خوشیوں میں شرکت کو منع نہیں کیا، بلکہ اسے معاشرتی حسن قرار دیا ہے، تاہم اس کے ساتھ شرعی حدود کی پابندی لازمی ہے۔ خواتین پر لازم ہے کہ وہ غیر محرم مردوں کے سامنے مکمل پردہ اختیار کریں، اور ایسا لباس پہنیں جو نہ باریک ہو، نہ چست اور نہ ہی جسم کی نمائش کا باعث بنے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شادی بیاہ میں ڈھول یا دف کے ذریعے خوشی کا اظہار حدِ اعتدال میں جائز ہے، لیکن بے ہودگی، شور شرابہ اور گناہ کے عناصر سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔ اسی طرح نمازوں کی پابندی ہر حال میں لازم ہے، کسی بھی تقریب کی وجہ سے نماز کا فوت ہونا قابلِ قبول نہیں۔
مولانا نے خاندانی نظام کے تناظر میں رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو مکمل طور پر تقریبات سے روکنے کے بجائے حکمت، نرمی اور محبت کے ساتھ دینی احکام کی تلقین کی جائے تاکہ رشتہ داریاں بھی قائم رہیں اور شریعت کی پاسداری بھی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی تقریب میں شرعی حدود برقرار رکھنا ممکن نہ ہو تو ایسی محفل سے اجتناب بہتر ہے۔
انہوں نے والدین کو خصوصی طور پر متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی ابتدائی تربیت نہایت اہم ہوتی ہے۔ اگر اس مرحلے میں غفلت برتی جائے تو بعد میں اصلاح مشکل ہو جاتی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ نئی نسل کو اسلامی اقدار اور تہذیبی شناخت سے روشناس کرایا جائے۔
مزید برآں انہوں نے علماء، ائمہ مساجد، ادباء اور اہل قلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علم و قلم کے ذریعے اسلامی اقدار کو فروغ دیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرے کی صحیح رہنمائی کریں۔
آخر میں انہوں نے حدیثِ مبارکہ "کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْؤْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر فرد اپنے دائرہ کار میں ذمہ دار ہے۔ اگر ہم سب اپنی ذمہ داریوں کا شعور پیدا کر لیں تو معاشرہ فکری و تہذیبی انحطاط سے محفوظ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کے عملی نظام کو گھر سے لے کر اجتماعی سطح تک نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ نئی نسل کے ایمان اور اسلامی تشخص کو محفوظ رکھا جا سکے۔



