نیشنل

پے ٹی ایم کو بڑا جھٹکا — ریزرو بینک آف انڈیا نے لائسنس منسوخ کر دیا

نئی دہلی: معروف ڈیجیٹل ادائیگی کمپنی پے ٹی ایم کو بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں ریزرو بینک آف انڈیا نے پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کا بینکاری لائسنس منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

آر بی آئی نے واضح کیا کہ ضوابط کی خلاف ورزی، بار بار انتباہ کے باوجود اصلاح نہ کرنا اور ڈپازٹرس کے مفادات کے خلاف طرزِ عمل اختیار کرنے کی وجہ سے یہ سخت فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پے ٹی ایم پیمنٹس بینک اب کسی بھی قسم کی بینکاری سرگرمی انجام نہیں دے سکے گا۔

 

مرکزی بینک کے مطابق ادارے کی کارکردگی ڈپازٹرس اور عوامی مفاد کے منافی رہی ہے، اور اگر اس کے آپریشن جاری رہتے تو صارفین کو مالی نقصان کا خدشہ تھا۔ اسی تناظر میں بینک کو بند کرنے کے عمل کے آغاز کیلئے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

 

واضح رہے کہ آر بی آئی پہلے ہی اس بینک پر مختلف پابندیاں عائد کر چکا تھا۔ مارچ 2022 سے نئے صارفین کے اندراج پر روک لگا دی گئی تھی، جبکہ مارچ 2024 میں نئے ڈپازٹس، والیٹس، فاسٹ ایگ اور این سی ایم سی کارڈز میں ٹاپ اَپ کی سہولت مکمل طور پر بند کر دی گئی تھی۔ یہ اقدامات کے وائی سی قواعد کی خلاف ورزی اور مشتبہ مالی سرگرمیوں کے خدشات کے پیش نظر کئے گئے تھے۔

 

تاہم آر بی آئی نے ڈپازٹرس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ بینک کے پاس تمام صارفین کو ادائیگی کیلئے مناسب لیکویڈیٹی موجود ہے۔ فی الحال بینک صرف پرانے ڈپازٹس کی نکاسی اور بینکنگ کوریسپانڈنٹس کے ذریعے قرض ریفرل تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ نئے ڈپازٹس لینے کی اجازت نہیں ہے۔

 

سنہ 2017 میں وجے شیکھر شرما کی قیادت میں قائم ہونے والا یہ بینک ضوابط پر عملدرآمد میں ناکامی کے باعث اب اپنے وجود کے خاتمے کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

 

پے ٹی ایم کا اعلان: تمام خدمات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گی

اسی دوران پے ٹی ایم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اس کی تمام خدمات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں۔

کمپنی کے مطابق پے ٹی ایم ایپ، پے ٹی ایم یو پی آئی، پے ٹی ایم گولڈ، پے ٹی ایم کیو آر، پے ٹی ایم ساؤنڈ باکس، پے ٹی ایم کارڈ مشینز، پے ٹی ایم پیمنٹ گیٹ وے، پے ٹی ایم منی سمیت تمام ذیلی اداروں اور اس سے منسلک کمپنیوں کی خدمات بدستور فعال رہیں گی۔

کمپنی نے سوشل میڈیا پر “#PaytmKaro” ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button