پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی کوئی تجویز نہیں: حکومت ہند

نئی دہلی: پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق خبروں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ اس طرح کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اور یہ خبریں گمراہ کن ہیں۔
حکومت کے مطابق بھارت میں گزشتہ چار برسوں سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہیں بڑھی ہیں اور صارفین کو بین الاقوامی قیمتوں کے اثرات سے بچایا گیا ہے۔وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا،“پیرول اور ڈیزل کی
قیمتوں میں اضافے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ واضح کیا جاتا ہے کہ حکومت کے سامنے ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ ایسی خبریں شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے مقصد سے پھیلائی جا رہی ہیں اور یہ بدنیتی پر مبنی اور
گمراہ کن ہیں۔ درحقیقت بھارت واحد ملک ہے جہاں گزشتہ چار برسوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ بھارت حکومت اور سرکاری تیل کمپنیوں نے شہریوں کو عالمی منڈی میں قیمتوں کے تیز اضافے سے بچانے کے لیے
مسلسل اقدامات کیے ہیں۔” رپورٹس کے مطابق حال ہی میں کوٹک انسٹی ٹیوشنل ایکویٹیز نے کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بھارت میں اب تک پیرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ اس سے
ریفائنری کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کا اندازاً اثر تقریباً 270 ارب روپے ماہانہ ہے۔اگرچہ حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کی کمی کی ہے اور برآمدات پر ‘ونڈ فال ٹیکس’ دوبارہ نافذ کیا ہے،لیکن یہ اقدامات صرف جزوی
راحت فراہم کرتے ہیں۔رپورٹس میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ بھارت میں جاری اسمبلی انتخابات کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ خام تیل کی بلند قیمتوں کے باعث ریفائنری کمپنیوں پر دباؤ بڑھنے سے ممکنہ طور پر 25
سے 28 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس رپورٹ کے بعد حکومت کی جانب سے وضاحت سامنے آ چکی ہے۔



