نیشنل

مدارس کی آئینی حیثیت اور مذہبی آزادی کے تحفظ پر علما کا مؤقف — مدارس کے خلاف اقدامات پر مسلم تنظیموں کا اظہار تشویش

 

ہندوستان کے آئین میں دفعہ 25 اور 26 کے تحت مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ دفعہ 30 کے تحت مذہبی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انہیں چلانے کا مکمل حق حاصل ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وطن عزیز میں دینی مدارس ہمارے مذہبی اقدار کے تحفظ کا اہم ترین ذریعہ ہیں اور آئین ہند نے ان حقوق کو بنیادی حقوق (Fundamental Rights) کے طور پر تسلیم کیا ہے؛ اس لیے ان کی حفاظت ملت اسلامیہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مدارس نے ملک کی آزادی اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ نفرت انگیز سیاست کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے والے بعض عناصر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی سلسلے کی ایک کڑی مدارس اسلامیہ کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے، گزشتہ دنوں اتراکھنڈ حکومت ایک بل لے کر آئی ہے ، جس کے تحت تمام مدارس کو سرکاری تعلیمی بورڈ میں رجسٹر کرانا لازمی قرار دیا جا رہا ہے اور آئندہ تعلیمی بورڈ یہ بھی طے کرے گا کہ مذہب سے متعلق کیا تعلیم دی جائے اور کیا نہیں، نیز نصاب بھی وہی ہوگا ، جو حکومت کی طرف سے مقرر کیا جائے گا۔

ہمارا ماننا ہے کہ یہ قانون آئین میں دی گئی ضمانتوں اور بنیادی حقوق کے سراسر خلاف ہے؛ بلکہ ایک سیکولر ریاست سے جو توقع کی جاتی ہے، اس سے بھی متصادم ہے؛ اس لیے اس کی مخالفت کرنا اور آئین میں دی گئی مدارس کی آزادی کو برقرار رکھنا پوری ملت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں تمام ملی تنظیمیں آپ کے ساتھ ہیں اور مدارس کا بھر پور ممکنہ تعاون کریں گی، اس معاملے میں کچھ مقدمات اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔

 

— حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ) — حضرت مولانا سید ارشد مدنی (صدر جمعیۃ علماء ہند )

— حضرت مولاناسید محمود اسعد مدنی (صدر جمعیۃ علماء ہند ) — حضرت مولانا عبید اللہ خان اعظمی (صدر مجلس اتحاد ملت)

— محترم جناب سید سعادت اللہ حسینی (امیر جماعت اسلامی ہند ) — حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی (جنرل سکریٹری بورڈ )

— حضرت مولاناسید بلال عبدالحی حسنی ندوی (سکریٹری بورڈ ) — حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی (صدر جمعیت اہل حدیث ہند)

متعلقہ خبریں

Back to top button