کووڈ سے بھی مہلک ہنٹا وائرس کا خطرہ: کروز شپ پر 3 ہلاکتیں، دنیا بھر میں ہائی الرٹ

عالمی ادارۂ صحت نے ایک خطرناک جان لیوا وائرس کے پھیلاؤ پر دنیا بھر کو الرٹ کر دیا ہے، جسے کووِڈ سے بھی زیادہ مہلک قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی ادارے صحت کے مطابق ہنٹا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہ نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ وائرس پر قابو پانے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ مل کر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
یوروپی ملک نیدرلینڈ کے ڈچ کروز شپ میں ہنٹا وائرس سے 3 افراد کی موت ہو گئی۔ اس جہاز میں 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے 149 مسافر سوار تھے۔عالمی ادارۂ صحت نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف ممالک کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔
جہاز جنوبی امریکہ اور انٹارکٹکا کے سفر کے بعد خبروں میں آیا۔ مختلف ممالک کی صحت ایجنسیاں اب متاثرہ مسافروں اور ان کے رابطوں کی جانچ کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عموماً چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے، تاہم اس کیس میں “اینڈیز وائرس” پایا گیا جو بعض حالات میں انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے، اور یہ زیادہ تر ارجنٹینا اور چلی میں پایا جاتا ہے۔
تحقیق کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔ بڑھتے درجہ حرارت اور بدلتے ماحول کے باعث چوہوں کی تعداد اور پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے بیماری کے کیسز بڑھنے کا خطرہ ہے۔
ارجنٹینا کے محکمہ صحت کے مطابق 2025 کے وسط سے اب تک ہنٹا وائرس کے 100 سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔




