ناسک ٹی سی ایس کے مبینہ تبدیلی مذہب معاملہ میں ندا خان 42دن بعد گرفتار

حیدراباد -8مئی ( اردو لیکس ڈیسک) ناسک میں ٹی سی ایس ملازمہ کو مبینہ طور پر مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے اور ہراسانی کے معاملہ میں 42 دنوں سے مفرور مرکزی ملزمہ نِدا خان کو پولیس نے آخرکار گرفتار کر لیا۔ ناسک کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم اور چھترپتی سمبھاجی نگر پولیس کی مشترکہ کارروائی میں آدھی رات کے بعد انھیں حراست میں لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ٹی سی ایس کی ناسک برانچ میں کام کرنے والی ایک خاتون ملازمہ نے الزام لگایا تھا کہ اسے جنسی ہراسانی، ذہنی اذیت اور زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے لئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ندا خان نے متاثرہ خاتون کا برین واش کرنے، مذہب تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے اور اس کے لباس و طرزِ عمل پر پابندیاں لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔
قبل از گرفتاری ضمانت کے لئے ندا خان کی درخواست کو ناسک سیشن کورٹ نے 2 مئی کو مسترد کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ معاملہ کی مکمل تحقیقات کے لئے لیے ملزمہ سے تحویل میں پوچھ تاچھ ضروری ہے۔
اس کیس میں ندا خان کے بھائی دانش شیخ سمیت7 دیگر ملزمین کو پولیس پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔ پولیس اب اس زاویہ سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس معاملہ کے روابط ملائیشیا جیسے دیگر ممالک سے ہیں یا نہیں، اور کیا متاثرہ خواتین کو قابو میں رکھنے کے لئے نشہ آور ادویات استعمال کی گئیں۔
TCS انتظامیہ نے ندا خان کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ فی الحال انھیں ٹرانزٹ ریمانڈ پر ناسک منتقل کیا گیا ہے۔



