جنگ بندی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں جھڑپیں

جنگ بندی جاری ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر عسکری جھڑپیں سامنے آئی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے لئے سفارتی کوششیں جاری تھیں۔
امریکی فوج کے مطابق اس نے آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کے تین جہازوں پر ایران کے حملوں کو ناکام بنا دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان ایرانی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جن سے حملے کئے جا رہے تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کارروائی خود دفاع میں کی گئی اور کسی بھی امریکی بحری جہاز کو نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی حکام نے واضح کیا کہ وہ کشیدگی نہیں چاہتے تاہم اپنی افواج کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
دوسری جانب ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی فضائی حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران کے مطابق یہ حملے اس کی سرزمین پر کئے گئے اور دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخلے کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ قشم جزیرے اور بندر عباس کے قریب متعدد دھماکے سنے گئے، جبکہ مغربی تہران میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں رپورٹ ہوئیں۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے پہلے حملہ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ اس کے برعکس اسلامی انقلابی گارڈ کور نے کہا ہے کہ اس کے حملوں میں امریکی بحری جہازوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہرمز میں ہونے والی جھڑپوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں محدود نوعیت کی ہیں اور امریکی جہاز محفوظ رہے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی بحریہ کے تین ڈسٹرائرز آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے جب ان پر ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں سے حملہ کیا گیا،
تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا جبکہ ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے تہران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران فوری طور پر معاہدہ کرے ورنہ مستقبل میں سخت اور بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔




