کسانوں کے مسائل پر دھرنا دیتے ہوئے کویتا گرفتار

*فصلوں کی خریدی کے مطالبہ پر سکریٹریٹ کے روبرو ٹی آر ایس کا کسانوں کے ساتھ شدید احتجاج*
*حکومت کی سرد مہری پر شدید تنقید ۔پارٹی سربراہ کویتا سمیت کئی لیڈرس کی گرفتاری و رہائی*
حیدرآباد: ریاست میں کسانوں کو درپیش سنگین مسائل کے خلاف تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس) کی جانب سے سکریٹریٹ حیدرآباد کے سامنے دھرنا منظم کیا گیا جس کی قیادت پارٹی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے کی۔ احتجاج میں بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان، کسان اور خواتین بھی شریک رہیں۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ریاست بھر میں کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں لیکن وزیر اعلیٰ اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دھان، جوار اور سورج مکھی جیسی فصلوں کی خریداری نہ ہونے کے باعث کسان سخت پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں یہاں تک کہ خریداری مراکز پر کسانوں کی اموات کے واقعات بھی پیش آرہے ہیں جو انتہائی۔ افسوسناک ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کے لئے سکریٹریٹ کے سامنے دھان ڈال کر احتجاج کیا گیا تاکہ شاید حکومت کو ہوش آئے اور وہ کسانوں کے حق میں اقدامات کرے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر کسانوں کی فصلوں کی خریداری شروع کرے اور “ترگو” کے نام پر کی جانے والی کٹوتیوں کو بند کیا جائے کیونکہ یہ کسانوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں سے وزیر اعلیٰ نے محکمہ زراعت کا جائزہ تک نہیں لیا جس کے باعث اضلاع میں کلکٹرس کسانوں کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ اے دھان کو بھی گریڈ لیس کے طور پر درج کیا جا رہا ہے اور باریک چاول پر کسانوں کو بونس سے محروم رکھنے کے لئے ڈرامہ کیا جا رہا ہے
۔انہوں نے کہا کہ کسان یوریا کی قلت کا بھی سامنا کر رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے متعارف کردہ ایپ بھی کسانوں کی سمجھ سے باہر ہے جس سے مزید مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔احتجاج کے دوران پولیس نے کویتا سمیت ٹی آر ایس کارکنان، کسانوں اور خواتین کو حراست میں لے لیا۔ گرفتاری کے دوران پولیس کی جانب سے خواتین اور کسانوں کو گھسیٹنے جیسے مناظر دیکھنے میں آئے جس پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔
کلواکنٹلہ کویتا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو درپیش تمام مسائل کے حل کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ٹی آر ایس چیف کویتا کو فلک نما پولیس منتقل کیا گیا تھا بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔



