مضامین

حیاتیاتی تنوع ۔ انسانی بقا کی ضمانت اور ہماری مشترکہ ذمہ داری

از : رفعت سلطانہ

ایم ایس سی نباتات، مانو حیدرآباد

انسانی زندگی کا وجود صرف انسانوں کے باہمی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ ہماری بقا اس پورے قدرتی نظام سے جڑی ہوئی ہے جس میں درخت، پودے، پرندے، جانور، سمندری حیات اور حتیٰ کہ آنکھوں سے نظر نہ آنے والے خرد جاندار بھی شامل ہیں۔ یہی فطری تنوع دراصل زمین پر زندگی کا حسن اور توازن برقرار رکھتا ہے۔ اسی حقیقت کو اجاگر کرنے، ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنے اور ہر فرد کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی اپیل پر ہر سال 22 مئی کوبین الاقوامی یومِ حیاتیاتی تنوع منایا جاتا ہے۔

 

دنیا بھر میں حیاتیاتی تنوع کو درپیش خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، صنعتی آلودگی، بے ہنگم شہری ترقی اور موسمیاتی تبدیلیاں قدرتی نظام کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ اس دن کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر قدرتی توازن بگڑ گیا تو انسان کی بقا بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اسی لیے اس سال “Acting Locally for Global Impact” کا موضوع متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ عالمی تبدیلی کی شروعات مقامی سطح سے ہوتی ہے، اور ہر فرد کا کردار نہایت اہم ہے۔

 

اقوامِ متحدہ نے اس سال حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے تین اہم اہداف بھی پیش کیے ہیں۔ پہلا ہدف زمین پر موجود حیاتیاتی تنوع کو اس کی اصل حالت میں محفوظ رکھنا ہے۔ دوسرا، ان نایاب پودوں اور جانوروں کی نسلوں کی حفاظت کرنا جو انسانی غفلت اور ماحولیاتی تباہی کے باعث معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ جبکہ تیسرا مقصد ان علاقوں میں قدرتی نظام کو دوبارہ بحال کرنا ہے جو تیزی سے کنکریٹ کے جنگل بنتے جا رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا واضح مؤقف ہے کہ پلاسٹک کے استعمال میں کمی، مقامی آبی ذخائر کی حفاظت، اور درخت لگانے جیسے چھوٹے اقدامات عالمی سطح پر بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

 

حیاتیاتی تنوع دراصل زمین پر موجود تمام جانداروں اور ان کے درمیان قائم تعلقات کا مجموعہ ہے۔ ہم جو ہوا میں سانس لیتے ہیں، جو پانی پیتے ہیں، جو غذا استعمال کرتے ہیں اور جو دوائیں حاصل کرتے ہیں، ان سب کا انحصار اسی قدرتی نظام پر ہے۔ دنیا کی 80 فیصد خوراک پودوں سے حاصل ہوتی ہے، جبکہ کروڑوں لوگ آج بھی پودوں پر مبنی روایتی علاج سے مستفید ہو رہے ہیں۔ شہد کی مکھیوں اور دیگر حشرات کی جرگ افشانی کے بغیر زراعت کا نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ تمام نعمتیں حیاتیاتی تنوع کی بدولت انسان کو مفت میسر ہیں۔

 

لیکن افسوس کہ انسانی خود غرضی اور بے احتیاطی نے اس عظیم نظام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً دس لاکھ انواع معدوم ہونے کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ گلوبل وارمنگ کے باعث درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے بے شمار نایاب پرندے اور جنگلی جانور پانی اور سایہ نہ ملنے کے سبب ہلاک ہو رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو غذائی زنجیر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی اور انسانی زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

 

ایسے نازک حالات میں ریاست تلنگانہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے قابلِ ستائش اقدامات کر رہی ہے۔ “ہریتا ہارم” جیسے پروگراموں کے ذریعے ریاست میں جنگلات اور سرسبز رقبے میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ امرآباد اور کَوّال کے جنگلات میں قائم ٹائیگر ریزرو میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلی حیات کی نگرانی اور حفاظت کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی یومِ حیاتیاتی تنوع کے موقع پر ریاست بھر میں درخت لگانے، ماحول دوست عہد کرنے اور عوامی بیداری کے مختلف پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔

 

وقت کا تقاضا ہے کہ “Acting Locally for Global Impact” کو محض ایک نعرہ نہ سمجھا جائے بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ پلاسٹک کے استعمال میں کمی، بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، اور اپنے گھروں میں کم از کم ایک پودا لگانا جیسے معمولی اقدامات بھی ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو صرف بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ ایک سرسبز، خوبصورت اور زندگی سے بھرپور زمین تحفے میں دینی چاہیے۔

 

آئیے عہد کریں کہ ہم قدرت کی حفاظت کریں گے، حیاتیاتی تنوع کو بچائیں گے اور ایک محفوظ و سرسبز مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button