قربانی”نمائش یا ریاکاری؟ سنتِ ابراہیمی کی تکمیل کے دوران سنتِ نبوی ﷺ کو نہ بھولیں کہ پاکی آدھا ایمان ہے
مجیدعارف نظام آبادی
ریاض، سعودی عرب
majeedaarif@gmail.com
***
سنتِ ابراہیمی کے اصل مقصد کو سمجھیں۔اسلام میں قربانی محض ایک رسم یا جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم عبادت، روحانی تربیت اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل تسلیم و رضا کا عملی اظہار ہے۔ قربانی ہمیں حضرت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت، قربانی اور اخلاص کی یاد دلاتی ہے۔آج کے دور میں جہاں ہر چیز سوشل میڈیاپر، دکھاوے اور شہرت کی نذر ہوتی جارہی ہے، وہاں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا ہماری قربانی واقعی خالص اللہ کے لئے ہے یا صرف نمائش اور ریاکاری کے لئے؟ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ (سورۃ الحج: 37)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قربانی کی اصل روح اخلاص، تقویٰ اور اللہ کی رضا ہے۔اگر قربانی صرف لوگوں کو دکھانے، اپنی حیثیت جتانے یا تعریفیں سمیٹنے کے لئے کی جائے تو اس عبادت کی روح متاثر ہوجاتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم ملا۔ انہوں نے بغیر کسی تردد کے اللللہ کے حکم کو قبول کیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی صبر اور رضا کا مظاہرہ کیا۔ یہی وہ جذبہ ہے جو “سنتِ ابراہیمی” کہلاتا ہے۔ ریاکاری کا مطلب ہے کوئی بھی کام اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لئے انجام دینا۔رسول اللہ ﷺ نے ریاکاری کو “شرکِ اصغر” قرار دیا، کیونکہ اس میں بندہ اللہ کے ساتھ لوگوں کی خوشنودی کو بھی شامل کر لیتا ہے۔آج قربانی میں ریاکاری کی چند شکلیں عام دیکھی جاتی ہیں۔مہنگے جانور صرف شہرت کے لئے خریدنا۔قربانی کی تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار۔جانور کی قیمت کو فخر سے بیان کرنا۔دوسروں کو کمتر سمجھنا۔سوشل میڈیا پر دکھاوے کے انداز میں پوسٹس کرنا۔یہ تمام اعمال قربانی کی روح کو کمزور کر دیتے ہیں۔سوشل میڈیا بذاتِ خود بُری چیز نہیں، مگر اس کا استعمال نیت پر منحصر ہے۔اگر کوئی شخص دینی شعور بیدار کرنے یا دوسروں کو ترغیب دینے کے لئے سادہ انداز میں قربانی کا ذکر کرے تو اس میں حرج نہیں۔ لیکن اگر مقصد تعریفیں، لائکس اور شہرت حاصل کرنا ہو تو یہ خطرناک صورت اختیار کرسکتا ہے۔آج بعض لوگ جانور سے زیادہ اس کی “نمائش” پر توجہ دیتے ہیں۔
قربانی کی اصل روح خاموشی، عاجزی اور اللہ کی رضا ہے، سنتِ ابراہیمی ہمیں سکھاتی ہےکہ اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی سب سے محبوب چیز اللہ کی راہ میں پیش کردی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی اصل کامیابی اللہ کی اطاعت میں مضمرہے۔۔ قربانی کا عمل خالص اللہ کے لئے ہونا چاہیے۔عبادت میں اخلاص نہ ہو تو ظاہری عمل بے روح رہ جاتا ہے۔ قربانی ہمیں ایثار اور خدمتِ خلق کے ساتھ ساتھ غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔گوشت تقسیم کرنا اسلامی بھائی چارے اور مساوات کا حسین مظہر ہے۔اصل قربانی صرف جانور کی نہیں بلکہ تکبر بھی ہے۔جب تک انسان اپنے نفس کی برائیوں کو قربان نہیں کرتا، قربانی کا پیغام مکمل نہیں ہوتا۔قربانی کو خالص عبادت کا درجہ دیتے ہوئے نیت صرف اللہ کی رضا کے لئے کریں۔ نمود و نمائش سے بچیں۔ غریبوں اور رشتہ داروںوں کا خیال رکھیں۔ جانور کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ قربانی کے بعد عاجزی اختیار کریں۔سوشل میڈیا پر غیر ضروری تشہیر سے پرہیز کریں۔ آج امتِ مسلمہ کو سنتِ ابراہیمی کی اصل روح دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ قربانی صرف عید نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت، اطاعت اور تقویٰ کا درس ہے۔ اگر قربانی کے موقع پر ہمارا دل اللہ کی محبت، عاجزی اور انسانیت کے جذبے سے بھر جائے تو یہی حقیقی کامیابی ہے۔اگر نیت خالص ہو تو ایک معمولی قربانی بھی اللہ کے نزدیک عظیم بن جاتی ہے، اور اگر نیت میں ریاکاری شامل ہوجائے تو بڑی سے بڑی قربانی بھی اپنامقصد کھو دیتی ہے۔
*سنتِ ابراہیمی کی تکمیل کے دوران سنتِ نبوی ﷺ کو نہ بھولیں کہ پاکی آدھا ایمان ہے؟*
عید الاضحی اطاعت، تقویٰ، ایثار اور بندگی کا عظیم پیغام ہےلیکن اس سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے دوران ہمیں حضرت محمد ﷺ کی سن سنتوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے، خصوصاً وہ عظیم تعلیم کہ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ”پاکی آدھا ایمان ہے۔ (صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ صفائی، پاکیزگی، نظم و ضبط اور انسانی راحت کا دین بھی ہے۔ افسوس کہ آج قربانی کے ایام میں بعض مقامات پر گندگی، بدبو، خون اور آلائشوں کا ڈھیر لگا دیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ اسلام کا خوبصورت تصورِ پاکی بھی متاثر ہوتا ہے۔اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے صفائی کو عبادت کا حصہ قرار دیا۔نماز سے پہلے وضو، جسمانی پاکیزگی، کپڑوں کی صفائی اور ماحول کی طہارت سب اسی تعلیم کا حصہ ہیں۔
اسلام نے راستے کی صفائی کو بھی صدقہ قرار دیا ہے۔“ نے فرمایابے شک اللہ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند فرماتا ہے۔” حضرت محمد ﷺ
عام ہو یا خاص مواقع ماحول کو پاک رکھنا دینی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا قربانی جیسی عظیم عبادت کے دوران صفائی کا خیال رکھنا بھی عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔عید الاضحی کے دنوں میں اکثر یہ مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ گلیوں میں خون بہنا، آلائشوں کو سڑکوں پر پھینک دینا، بدبو اور گندگی پھیلانا،، جانوروں کی باقیات کھلے عام چھوڑ دینا، صفائی کے اصولوں کو نظر انداز کرنا، یہ رویّے نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کے خلاف بھی ہیں۔اسلام نے قربانی کا حکم دیا، مگر دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دی۔اگر ہماری قربانی سے محلے والے، راہ گیر یا ماحول یا برادران وطن متاثر ہو تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔ حضرت محمد ﷺ نے ہمیشہ صفائی، خوشبو اور پاکیزگی کو پسند فرمایا۔ آپ ﷺ راستوں سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیاہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب راستے سے ایک کانٹا ہٹانا صدقہ ہے تو قربانی کے بعد پورا راستہ گندا کرنا کیسا عمل ہوگا؟
قربانی کی اصل روح نظم و ضبط سیکھنا،ا نسانیت کا خیال رکھنا، صفائی اور حسنِ اخلاق اپنانا ہے۔
قربانی کے دوران صفائی برقرار رکھنے کے لئے مناسب جگہ پر قربانی کریں، کوشش کریں کہ قربانی کھلی سڑکوں یا گزرگاہوں کے بجائے مخصوص اور مناسب جگہ پر کی جائے۔ الائشوں کو فوراً ٹھکانے لگائیں، جانور کی باقیات کو تھیلوں میں بند کرکے مناسب جگہ پر دفن کردیں ۔ پانی، جراثیم کش ادویات یا مٹی وغیرہ سے جگہ کو صاف کریں تاکہ بدبو اور آلودگی نہ پھیلے
مناسب ہوگا گھر میں قربانی کرنے کے بجائے سلاٹر ہاوز یا کسی فنکشن ہال میں کریں۔ اگر مسلمان قربانی کے ساتھ صفائی، نظم و ضبط اور اخلاق کا بھی مظاہرہ کریں تو دنیا پر اسلام کا خوبصورت چہرہ نمایاں ہوگا۔اگر ہم قربانی کے ساتھ صفائی، ادب اور حسنِ اخلاق اختیار کریں تو یہ عبادت مزید حسین بن جاتی ہے۔سنتِ ابراہیمی ہمیں قربانی، ایثار اور اطاعت کا درس دیتی ہے، جبکہ سنتِ نبوی ﷺ ہمیں صفائی، تہذیب اور پاکیزگی کی تعلیم دیتی ہے اور یہی سنتِ ابراہیمی اور سنتِ نبوی ﷺ کا حسین امتزاج ہے۔۔ بچوں کو صفائی کی تربیت دیں، عید سے قبل ائماء کرام نئی نسل کو اسلامی طہارت اور سماجی ذمہ داری کا درس دیں۔
ایک سچا مسلمان وہی ہے جو دونوں سنتوں کو ساتھ لے کر چلے۔
***
(مضمون نگار کئی کتابوں کے مصنف اور ویب سائٹ
www.mynizamabad.com,
www.qalampubl.com
کے سی ای او/ ایڈیٹر ہیں)



