مرکز نے پٹرول اور ڈیزل کی بڑے پیمانے پر خریداری پر 90 دن تک پابندی عائد کر دی
مغربی ایشیا کی صورتحال: مرکز نے پٹرول اور ڈیزل کی بڑے پیمانے پر خریداری پر پابندی عائد کر دی
نئی دہلی : مغربی ایشیا میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث خام تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے پیشِ نظر مرکزی حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے پیٹرول پمپوں سے بڑی مقدار میں پٹرول اور ڈیزل کی خریداری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں ابتدائی طور پر 90 دن تک نافذ رہیں گی۔
مرکزی حکومت نے ریٹیل آؤٹ لیٹس کو ہدایت دی ہے کہ کسی ایک گاڑی یا صارف کو یومیہ 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل فروخت نہ کیا جائے۔ وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق حالیہ دنوں میں بعض صنعتی اور تجارتی صارفین بلک سپلائی چین کے بجائے پیٹرول پمپوں سے بڑی مقدار میں ایندھن خرید رہے تھے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں عام صارفین کے لیے ایندھن کی فراہمی متاثر ہو رہی تھی۔
حکام کے مطابق بلک اور ریٹیل ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں فرق ہے۔ مثال کے طور پر پیٹرول پمپوں پر ڈیزل کی قیمت تقریباً 95.20 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ بلک سپلائی میں اس کی قیمت 134.50 روپے فی لیٹر تک پہنچ رہی ہے۔ اسی فرق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض تجارتی صارفین ریٹیل پمپوں سے زیادہ مقدار میں ڈیزل خرید رہے تھے۔
وزارتِ پیٹرولیم نے اپنے احکامات میں کہا ہے کہ صنعتی اور تجارتی ضروریات کے لیے صارفین صرف بلک سپلائی چین کے ذریعے ہی پٹرول اور ڈیزل حاصل کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ پیٹرول پمپوں سے خریدے گئے ڈیزل کی دوبارہ فروخت نہ کی جائے۔
وزارت نے بتایا کہ یہ احکامات فی الحال 90 دن تک نافذ رہیں گے، تاہم ضرورت پڑنے پر صورتحال کا جائزہ لے کر ان کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔




