نیشنل

گیان واپی، متھرا اور سنبھل مسجد ؛ مندر تنازعہ – ہندو اور مسلم فریقوں نے سپریم کورٹ کی تجویز ٹھکرا دی

نئی دہلی : ہندو اور مسلم فریقوں نے اتر پردیش کے تین اہم مندر-مسجد تنازعات میں ثالثی (میڈی ایشن) کے لیے سپریم کورٹ کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ دونوں فریقوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ معاملے کا فیصلہ عدالت کے ذریعے ہی چاہتے ہیں۔

 

سپریم کورٹ نے وارانسی کی گیان واپی مسجد، متھرا کے شری کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ مسجد تنازع اور سنبھل کی شاہی جامع مسجد سے متعلق مقدمات میں باہمی ثالثی کی تجویز دی تھی۔ اس مقصد کے لیے عدالت نے فریقین کی رضامندی بھی طلب کی تھی۔ یہ اقدام "سپریم کورٹ ایکشن فار میڈی ایٹڈ ایجوڈیکیشن اینڈ ڈسپیوٹس ہارمونائزیشن اکراس نیشن (سمادھان سماروہ) 2026” کے تحت کیا گیا تھا۔

 

گیان واپی مسجد مقدمے میں ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مسجد کے احاطے میں موجود قدیم مندر کو مغل بادشاہ اورنگزیب کے دور میں منہدم کرکے مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ 1993 تک سوم ناتھ ویاس خاندان مسجد کے تہہ خانے میں پوجا کرتا تھا، جسے اس وقت کی ملائم سنگھ یادو حکومت نے روک دیا۔ دوسری جانب مسلم فریق کا مؤقف ہے کہ مسجد ہمیشہ سے مسلمانوں کے قبضے میں رہی ہے اور اس کی مذہبی حیثیت تبدیل نہیں ہوئی۔

 

متھرا کے شری کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ مسجد تنازع میں ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد کرشن جنم بھومی کی زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت سے مسجد کو موجودہ مقام سے ہٹانے اور قدیم مندر کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ اگرچہ 2020 میں دیوانی عدالت نے پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کا حوالہ دیتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا تھا، لیکن بعد میں متھرا کی ضلعی عدالت نے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا۔

 

سنبھل کی شاہی جامع مسجد سے متعلق مقدمے میں وکیل ہری شنکر جین اور دیگر درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ مغل دور میں مندر کو گرا کر مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ 19 نومبر 2024 کو سنبھل کی ایک دیوانی عدالت نے مسجد کا سروے کرانے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کے بعد پتھراؤ، گاڑیوں کو آگ لگانے اور پرتشدد واقعات پیش آئے، جن میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ 24 نومبر 2024 کو دوسرے سروے کے دوران بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔

 

اب دونوں فریقوں کی جانب سے ثالثی سے انکار کے بعد ان تینوں حساس مذہبی تنازعات کی سماعت معمول کے عدالتی عمل کے تحت جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button