بی جے پی رکن اسمبلی ونود سنگھ پر عصمت ریزی کی کوشش کا الزام – رکن اسمبلی نے الزامات کو سازش قرار دے دیا
سلطان پور کے بی جے پی رکن اسمبلی ونود سنگھ پر عصمت دری کی کوشش کا الزام، رکن اسمبلی نے الزامات کو سازش قرار دے دیا
اتر پردیش کے سلطان پور صدر کے بی جے پی رکن اسمبلی اور سابق وزیر ونود سنگھ پر ایک خاتون نے عصمت دری کی کوشش، جان سے مارنے کی دھمکی اور اپنی 10 سالہ بیٹی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرانے اور تیزاب حملے کی دھمکی دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
خاتون نے پیر کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 3 جون کو لکھنؤ کے ایک اپارٹمنٹ میں، جہاں وہ اپنے شوہر اور بیٹی کے ساتھ کرائے پر رہتی تھی اور اسی عمارت میں رکن اسمبلی بھی رہتے تھے، ونود سنگھ نے اپنے گن مین دھننجے یادو کے ذریعے اسے بلایا۔ خاتون کے مطابق کمرے میں رکن اسمبلی نشے کی حالت میں تھے اور انہوں نے اس کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے عصمت ریزی کی کوشش کی، تاہم وہ کسی طرح وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔
خاتون کا الزام ہے کہ اس واقعے کے بعد رکن اسمبلی کا گن مین مسلسل فون کرکے دھمکیاں دیتا رہا۔ اس نے 10 سالہ بیٹی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرانے اور اس پر تیزاب پھینکنے کی دھمکی بھی دی، جس کے باعث پورا خاندان خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ پولیس سے شکایت کرنے پر کارروائی کے بجائے اس کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔
خاتون نے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے میں فوری ایف آئی آر درج کی جائے، رکن اسمبلی کو حاصل مبینہ سرکاری تحفظ ختم کیا جائے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب بی جے پی رکن اسمبلی ونود سنگھ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف رچی گئی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الزام لگانے والی خاتون اور اس کا شوہر پہلے ہی جعلسازی اور دھوکہ دہی کے ایک مقدمے میں نامزد ہیں۔
ونود سنگھ کے مطابق خاتون کا شوہر ششانک پانڈے نے خود کو اعلیٰ سرکاری روابط رکھنے والا شخص ظاہر کرتے ہوئے ایف سی آئی گودام اور ویئر ہاؤس سے متعلق کام دلانے کا جھانسہ دیا اور بعد میں سنٹرل ویئر ہاؤسنگ کارپوریشن کے جعلی دستاویزات کے ذریعے رقم کا مطالبہ کیا۔ دستاویزات کی جانچ کے بعد انہوں نے دونوں میاں بیوی کے خلاف لکھنؤ کے حضرت گنج تھانے میں جعلسازی اور دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔
رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ بھی ششانک پانڈے کی درخواست مسترد کر چکی ہے اور اب گرفتاری سے بچنے کے لیے ان کی اہلیہ کے ذریعے جھوٹے الزامات لگا کر ان کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور تحقیقات میں حقیقت سامنے آ جائے گی۔



