تلنگانہ

حیدرآباد کی رائے درگم وقف اراضی پر قبضوں کے خلاف 13 ستمبر کو تلنگانہ مائنارٹیز حقوق کمیٹی کا اندرا پارک پر دھرنا

وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے علماء، سیاسی و سماجی نمائندوں اور ماہر وکلاء پر مشتمل الگ انتظامی شعبہ قائم کرنے کی قرارداد

، 13 ستمبر کو اندرا پارک پر دھرنے کا اعلان

حیدرآباد:  حیدرآباد کی رائے درگم کی وقف اراضی پر مبینہ قبضوں کے خلاف 13 ستمبر 2026 کو اندرا پارک پر دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تلنگانہ مائنارٹیز حقوق کمیٹی کے صدر عبدالواحد کی جانب سے پیر 24 اگست کو سندریا آڈیٹوریم میں راؤنڈ ٹیبل میٹنگ منعقد کی گئی، جس میں شہر کے اہم مذہبی، سیاسی، سماجی اور قانونی شخصیات نے شرکت کی۔

 

میٹنگ میں وقف جائیدادوں کے تحفظ کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقررین نے مذہبی اور سیاسی قائدین کی جانب سے وقف اراضی کے مسائل پر طویل عرصے سے اختیار کی گئی خاموشی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے مبینہ طور پر ایک سازش کا حصہ قرار دیا۔

 

میٹنگ میں ایک قرارداد بھی پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ جامعہ نظامیہ اور دیگر دینی مدارس جن کے نام پر اب بھی وقف جائیدادیں موجود ہیں، انہیں اپنے انتظامی نظام کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے۔ ایک شعبہ تدریسی امور کے لیے ہو، جس میں علماء اور مفتیان شامل ہوں، جبکہ دوسرا شعبہ وقف جائیدادوں کے تحفظ اور انتظام کے لیے قائم کیا جائے، جس میں اہم سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ دیانتدار اور ماہر وکلاء کو شامل کیا جائے۔

 

مقررین نے کہا کہ وقف اراضی کا تحفظ کرتے ہوئے ان جائیدادوں کے صحیح اور شفاف استعمال کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

میٹنگ سے عبدالواحد، ایڈووکیٹ طاہر قادری، عباس علی، ایڈووکیٹ واجد علی، ڈاکٹر علیم خان فلکی، سید حسین شہید، خواجہ علی بابر، عبدالرحمن، عبد الحمید، سیف اللہ، محمد صادق، ابرار حسین اور ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر سید منصور شاہ سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ وسیم احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

 

میٹنگ کے اختتام پر رائد درگم کی وقف اراضی پر مبینہ قبضوں کے خلاف 13 ستمبر 2026 کو اندرا پارک پر دھرنا دینے کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button