ہیلت

اب آسمان کے راستے ہاسپٹل پہنچیں گے مریض: تمل ناڈو میں ’ڈرون ایمبولینس‘ جنوری میں اڑنے کو تیار

ٹریفک جام اب مریضوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں: انقلابی ’ڈرون ایمبولینس‘ جنوری میں اڑنے کو تیار

 

حیدراباد:  شہروں میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کی بھیڑ اور سڑکوں کے طویل اژدھام میں ایمبولینس کے پھنس جانے کا دردناک مسئلہ اب ماضی کا قصہ بننے جا رہا ہے۔ مریضوں کو کم سے کم وقت میں اور ٹریفک سے بچاتے ہوئے براہِ راست ہاسپٹل  پہنچانے کے لئے ملک میں ’ڈرون ایمبولینس‘ کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے

 

تاملناڈو کی نامور انّا یونیورسٹی کے زیرِ انتظام ’ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ایڈوانسڈ ان مینڈیڈ ایریل وہیکل ریسرچ سنٹر‘ کے ڈائریکٹر سنتھیل کمار نے اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس جدید ترین ڈرون ایمبولینس کا پہلا آزمائشی (ٹرائل) پرواز کا مرحلہ آئندہ سال جنوری میں متوقع ہے۔

 

ایرو اسپیس ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر کے مطابق، اس جدید ٹیکنالوجی کی ترویج کے لئے حکومتِ تمل ناڈو کی مالی معاونت سے سنہ 2019 میں ’ڈاکٹر کلام ریسرچ سینٹر‘ قائم کیا گیا تھا۔ اس مرکز میں مختلف نوعیت کے جدید ترین ڈرونز تیار کئے جا رہے ہیں۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سنہ 2021 میں اسی ادارے کو ملک میں پہلی بار ڈرون پائلٹ کی باضابطہ تربیت فراہم کرنے کے لئے ڈی جی سی اے (DGCA) کی جانب سے تاریخی منظوری دی گئی تھی۔

 

ڈائریکٹر سنتھیل کمار نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس ڈرون ایمبولینس کو اس نوعیت سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ کسی بھی بڑی عمارت یا ہاسپٹل کی چھت اور اسٹیڈیم پر بحفاظت اتر سکے۔ اس وقت اس بات پر تیزی سے کام جاری ہے کہ اس کی وزن اٹھانے کی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ طبی عملہ بھی بوقتِ ضرورت مریض کے ساتھ سفر کر سکے۔

 

اس کے علاوہ، ہنگامی صورتحال میں تقریباً 400 کلومیٹر کے طویل فاصلے تک کم مقدار میں ادویات اور خون کے عطیات فوری طور پر روانہ کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس تمام پراجیکٹ کا بنیادی مقصد انتہائی نگہداشت (ایمرجنسی) کے دوران شہریوں کو تیز ترین اور ٹریفک سے پاک طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس کا پہلا تجرباتی مشن کارائیکوڈی کے کاناڈوکاٹھان ہوائی اڈے پر انجام دیا جائے گا، جس کے لئے تمام تر تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔

 

ریسرچ سینٹر میں تیار کی جانے والی اس ڈرون ایمبولینس کی اہم تکنیکی خصوصیات درج ذیل ہیں:

* وزن کی گنجائش: یہ جدید ڈرون 250 کلوگرام تک کا وزن باآسانی اٹھا سکتا ہے۔

* نشستیں اور گنجائش: اس کا ڈھانچہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ ٹریفک کو مات دیتے ہوئے بیک وقت دو افراد (مریض اور طبی عملہ یا معاون) کو لے کر سفر کر سکے۔

* رفتار اور بلندی: یہ ہوا میں 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے، 1,000 سے 1,200 فٹ کی بلندی پر اور مسلسل 90 منٹ تک نان اسٹاپ پرواز کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 

ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کا یہ شاہکار طبی شعبے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا، جو لمحوں کی تاخیر سے ضائع ہونے والی قیمتی انسانی جانوں کو بروقت تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

Oplus_131072

 

متعلقہ خبریں

Back to top button