بھوپال میں مسلم نوجوان پر سرِعام تشدد پر احتجاج بھڑک اٹھا – سینکڑوں مسلم سڑکوں پر نکل پڑے ؛ 24 گھنٹوں میں گرفتاری نہ ہوئی تو شہر بند کی دھمکی
بھوپال – مدھیہ پردیش کے بھوپال میں مسلم نوجوان عارف خان پر مبینہ وحشیانہ حملہ اور سرِعام بے عزتی کے خلاف منگل کے روز مسلم برادری کے سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ دو روز قبل گووند پورہ علاقے کے ایک ہوٹل میں پیش آئے اس واقعہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے فوری گرفتاریوں کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کی قیادت شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حملہ آوروں کو فوری گرفتار کیا جائے اور موقع پر موجود رہنے کے باوجود مداخلت نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔ مظاہرین نے انتباہ دیا کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر ملزمین گرفتار نہ ہوئے تو شہر بند کی کال دی جائے گی۔
احتجاج کا آغاز قاضیات احاطہ سے ہوا جہاں مسلم برادری کے افراد نے واقعہ کی مذمت کی، بعد ازاں ریلی کی شکل میں پولیس کنٹرول روم تک مارچ کیا گیا۔ مظاہرین نے اس واقعہ کو نہ صرف ایک فرد پر حملہ بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی جذبات پر ضرب قرار دیا۔
شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کے دوران توہین آمیز زبان استعمال کی گئی اور پولیس کی مبینہ خاموشی نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کو روکنے کے بجائے ان کی پشت پناہی کی۔
برادری کے قائدین نے پولیس کمشنر سنجے کمار کو یادداشت پیش کرتے ہوئے ملزمین کی فوری گرفتاری اور غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں کانگریس ارکانِ اسمبلی عارف مسعود اور آتف عقیل کے علاوہ اے آئی ایم آئی ایم قائد محسن علی نے بھی شرکت کرتے ہوئے مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کی۔
پولیس کے مطابق اتوار کے روز گوتم نگر کے ایک ہوٹل میں چند افراد نے عارف خان کو زبردستی باہر نکال کر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، آدھا برہنہ کیا اور اس کے چہرے پر سیاہی اور گوبر مل دیا۔ حملہ آوروں نے الزام لگایا تھا کہ وہ دوسری برادری کی خاتون کے ساتھ موجود تھا۔
بعد ازاں مذکورہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ برس سے عارف خان کے ساتھ لیو اِن ریلیشن شپ میں تھی اور اپنی مرضی سے اس کے ساتھ گئی تھی۔
پولیس کمشنر سنجے کمار نے میڈیا کو بتایا کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ملزمین کی شناخت و گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کی ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لیا جارہا ہے اور موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ غفلت ثابت ہونے پر ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔



