نیشنل

ممبئی میں تربوز کھانے کے بعد چار اموات کا معاملہ – فارنسک کی چونکا دینے والی ابتدائی رپورٹ

مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں بریانی اور تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت کے معاملے میں فارنسک کی ابتدائی رپورٹ نے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں، جس کے بعد یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق، 25 اپریل کو جے جے مارگ علاقے میں مقیم عبداللہ ڈوکادیا (40)، ان کی اہلیہ نسرین (35) اور بیٹیاں عائشہ (16) اور زینب (13) نے  اپنے گھر میں رشتہ داروں کو دعوت دی تھی جس میں بریانی تیار کی گئی تھی ان تمام نے مل کر بریانی کھائی اور دعوت ختم ہونے کے بعد رشتہ دار اپنے گھر چلے گئے. اس کے کچھ دیر ان چاروں نے تربوز بھی کھایا، جس کے چند گھنٹوں کے اندر انہیں شدید قے اور دست شروع ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر ہاسپٹل منتقل کیا گیا، تاہم علاج کے دوران چاروں کی موت ہوگئی۔

 

واقعہ کے بعد شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ آیا یہ اموات فوڈ پوائزننگ کے باعث ہوئیں یا نہیں، تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد جاری فارنسک رپورٹ نے معاملے کو نیا رخ دے دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق چاروں کے جسمانی اعضا کا رنگ غیر معمولی طور پر سبز ہوچکا تھا، جو عام فوڈ پوائزننگ میں نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ عبداللہ کے جسم میں خطرناک کیمیائی مادہ “مارفین” کی موجودگی بھی پائی گئی، جس سے زہریلی شے کے امکان کو تقویت ملی ہے۔

 

اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد پولیس نے مختلف زاویوں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس کیس میں پولیس کے ساتھ طبی ماہرین، فارنسک ٹیم اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے حکام بھی شامل ہیں۔ متاثرہ خاندان کے کھانے کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تربوز کہاں سے خریدا گیا تھا، جس کی وجہ سے تفتیش میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔

 

پولیس اس پہلو سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ اجتماعی خودکشی کا معاملہ ہے یا کسی ذاتی دشمنی کے تحت زہر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ عبداللہ 2019 میں درج ایک دھوکہ دہی کے کیس میں کلیدی گواہ تھے، جس کی سماعت رواں سال متوقع تھی۔ حکام اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس کیس کا ان اموات سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button