تلنگانہ

نئے تین فوجداری قوانین غیر جمہوری اورغیر آئینی، مرکزی حکومت سے از سرنو جائزہ لینے کا مطالبہ

شہری حقوق کے تحفظ کی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس، تلنگانہ کی جانب سے نئے فوجداری قوانین سے متعلق شعور بیداری و آگاہی پروگرام نہرو آڈیٹو ریم مدینہ ایجوکیشن سنٹر نا میلی حیدرآباد پرمنعقدہوا۔ پروگرام کو مخاطب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ وی رگھوناتھ۔سینئر ایڈوکیٹ وسابق صدرتلنگانہ ہائی کورٹ ایڈوکیٹ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ان نئے قوانین سے ملک کے شہریوں بالخصوص غریبوں کومسائل و پریشانیوں کا سامنا کر ناپڑے گا۔

 

انہوں نے ان تین نئے فوجداری قوانین کو غیر جمہوری اورغیر آئینی قرار دیا۔ مذکورہ قوانین میں آرٹیکل 19 اور آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ مذکورہ نئے قوانین کو ختم کرنے کے لیے وکلاء، دانشور، شہری حقوق کے تحفظ کی تنظیموں اورسماج کے ہر طبقہ کو متحدہ طور پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ہمیں متحد ہو کر ان نئے قوانین کے خلاف تحریک چلانی ہوگی تا کہ مرکزی حکومت پر ان قوانین میں تبدیلی لانے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ اس نئے قوانین میں پولیس کو بہت زیادہ اختیارات دئے گئے ہیں۔ سابق میں پولیس کو صرف چوبیس گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ہوتا تھاجب کہ اب ملزم کو پولیس تین ماہ تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔

 

وی رگھوناتھ نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص کو پولیس اسٹیشن سے رجوع ہو کر ایف آئی آر درج کروانا مشکل ہو جائے گا۔ اورتین ماہ کے دوران کسی بھی شخص کو کئی مرتبہ پولیس گرفتار کرسکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے ملک کے وکلاء، عوامی تنظیموں سے اس قوانین کو نافذ کرنے سے قبل مشورے اور تجاویز حاصل نہیں کئے۔ انھوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قانون کا از سرنو جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کرے۔ انھوں نے کہا کہ معاشرے میں جرائم کے خاتمہ کے لیے سخت قوانین بنانے سے جرائم میں کی نہیں ہوگی بلکہ حکومت کو جرائم کو ختم کرنے کے لیے عوام میں شعور بیداری مہم چلانا چاہیے

 

۔سنیئرایڈوکیٹ پر ما چاری نے کہا کہ نئے قوانین میں جو خامیاں موجود ہیں اسے تبدیل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین کی وجہہ سے اظہار آزادی رائے کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ایڈوکیٹ محمد ثنااللہ فرحان،ہائی کورٹ تلنگانہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے عجلت میں یہ فوجداری قوانین منظور کر واے ہیں۔ اور مختصر وقت میں بغیر کسی مباحث ندائی ووٹ سے قوانین کو منظوری دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس قانون کو منظور کرنے سے قبل بار اسوسی ایشن و دیگر وکلاء کے اسوسی ایشن کے نمائندوں سے مذاکرات بھی نہیں کئے تھے۔

 

اس موقع پراے پی سی آر کے ایکزیکٹو ممبر انیس احمد نے ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس کی ملک بھر میں کئے جانے والے کاموں اور قانونی امداد کی مختصر رپورٹ پیش کی۔ایڈوکیٹ رحمت النساء نے پروگرام کی نظامت کی۔سماجی جہد کارمحترمہ ماریہ نے کلماتِ تشکر پیش کئے۔اس موقع پر اے پی سی آر،تلنگانہ کے ایکزیکیٹو اراکین ایڈوکیٹ اطہر، ڈاکٹر شیخ محمد عثمان،محمد کلیم الدین،اے آر جنید،سجاد علی،مقصود ہاشمی ودیگر موجود تھے۔قانون کے طلباء،ایڈوکیٹس،سماجی جہدکاروں،صحافیوں کے علاوہ عام شہریوں نے بھی پروگرام سے استفادہ کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button