اسپشل اسٹوری

سفرِ حج کے لیے بدلتے ہوئے ٹرانسپورٹ سسٹم سعودی عرب کی ترقی کا عکاس

اسپیشل اسٹوری – کے این واصف

دنیا کے مسلمانون کا ان 15 سو سالوں میں سفرِ حج کے لئے مواصلات کے ذریعے وقت، حالات اور اپنی مالی استطاعت کے مطابق الگ الگ رہے ہیں۔ عازمین کا پیدل سفر سے فضاء میں اڑتے ہوئے مکہ پہنچنے کا یہ سفر انسانی ترقی کا مظہر ہے۔

 

مسلمانوں کی زندگیوں میں حج کے لیے سفر پر نکلنا انتہائی گہرے نقوش چھوڑنے والا ایک روحانی تجربہ ہوتا ہے۔ اور اِس مقدس سفر کے لیے اختیار کیا گیا راستہ، زائرین اور عازمینِ حج کو مکہ مکرمہ میں واقع مسجدالحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی زیارت تک لے آتا ہے۔

 

سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق مسجد الحرام تک پہنچنے والا صحرا کا یہ دشوار کن راستہ جس میں پانیوں کو عبور کرنا بھی شامل تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلیوں کے کئی مراحل سے گزرتا ہوا ٹیکنالوجی اور ٹرانسپورٹیشن کے استعمال سے ایک جدید ایکو سسٹم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

 

حج کے راستوں پر آہستہ آہستہ جنم لینے والی یہ تبدیلیاں جہان انسانی ترقی بلکہ مملکت کے اُس عزم پر کاربند رہنے کی عکاسی کرتی ہیں جو وہ حجاج کرام اور زائرین مدینہ منورہ کی خدمت، اُنھیں سہولتیں پہنچانے اور بہترین کارکردگی کے ذریعے عازمین کے لیے حج و زیارہ کو آسان اور محفوظ بنانے کے لیے سرانجام دی رہی ہے۔

 

صدیوں سے زائرین، زمینی کاروانوں اور سمندری راستوں کے ذریعے طویل فاصلوں کو طے کر کے جن میں مہینوں لگ جایا کرتے تھے، بیت اللہ تک پہنچتے تھے۔ ان راستوں میں اُنھیں طرح طرح کی صعوبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا اور سفر کی شدید دشواریاں بھی درپیش ہوتی تھیں۔

 

حج کے یہ راستے، بعد میں تعمیر و ترقی کے مراحل سے گزرے اور اِن پر مختلف مقامات پر کنوئیں اور مساجد تعمیر کی گئیں جو تنظیمی اُمور اور حجاج و زائرین مدینہ منورہ کے لیے سفر کے دوران سہولتیں فراہم کرنے اور اُن کی دیکھ بھال کا ایک اعلٰی مظاہرہ تھا۔ یہ سہولتیں صرف حج کے راستوں تک محدود نہیں رہی تھیں بلکہ مسجد الحرام کے اندر بھی زائرین کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔

 

آج ممکت، حجاج اور عمرہ زائرین کو ٹرانپسورٹ کا ایک ایسا ایکو سسٹم فراہم کرتی ہے جو مکمل طور پر مربوط ہے۔ اِس میں فضائی سفر، شاہراؤں کا ایک وسیع اور جامع نیٹ ورک منظم ٹرین اور بس سروس شامل ہے۔

 

مملکت سعودی عرب میں آج اِن تمام سفری وسائل کو جدید ترین نقل و حمل کی سہولتیں اور ہجوم کے بندوبست کے لیے ڈیجیٹل نظام کا تعاون حاصل ہے تاکہ سفر میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو اور یہ حفاظت کے اعلٰی معیار پر پورا اُترتا ہو۔

 

سعودی “وژن 2030” کے بنیادی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے، ٹرانسپورٹیشن، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل خدمات کے لیے بہتری کی کوششیں مسلسل جاری ہیں تاکہ زائرین کے لیے حج کا تجربہ بہتر ہو سکے اور عبادت گزاروں کو فراہم کیا جانے والا خدمات کا معیار بلند رہے۔

 

سفرِ حج، روحانی اہمیت اور روز بروز سامنے آنے والی جدید سہولتوں کا ایک منفرد امتزاج بن چکا ہے۔ لیکن اس کی تطہیر اور پاکیزگی کا جوہر آج بھی اپنی جگہ محفوظ ہے۔

 

البتہ مستقل طور پر ہونے والی تبدیلیوں سے اِس سفر میں آسانیاں بڑھتی جا رہی ہیں جو عازمین و زائرین کے آرام کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں اور اِس بات کی توثیق ہیں کہ مملکت، اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے۔

 

عازمین و زائرین کے لیے نہ صرف ٹرانسپورٹیشن مین انقلابی ترقی ہوئی ہے بلکہ حرمین شریفین میں مہمانان رب العزت کو فراہم سہولتون میں بھی ناقابل یقین ترقی آئی ہے۔ دنیا میں آج بھی لاکھون شاہد موجود ہیں جنھون نے آج سے پچاس سال قبل مکہ اور مدینہ منورہ کے زیارت کی سعادت حاصل کی تھی، وہ آج حرمین شریفین میں فراہم آسانیون اور سہولتون کو دیکھ کر حیران رھ جاتے ہیں۔

 

یہی نہین بلکہ حکومت سعودی عرب اور حرمین انتظامیہ مہمانانِ رب العزت کے لئے ہر گزرتے سال کے سال کے ساتھ ان میں اضافے کرنے میں کوشاں نظر آتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button