ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد دبئی کی چمک ماند، سیاح اور غیر ملکی تشویش میں – ٹرمپ سے خلیجی ارب پتی کا سوال

دبئی کو طویل عرصے سے دنیا کے محفوظ ترین بین الاقوامی مراکز میں شمار کیا جاتا رہا ہے، مگر ایران کی جانب سے جاری جوابی حملوں نے اس تصور کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ شہر کی مشہور عمارتوں اور اہم مقامات کے قریب ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات نے دبئی کی عالمی ساکھ کو متاثر کیا ہے اور سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے ہیں۔ ان حملوں کے باعث متحدہ عرب امارات کو اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنا پڑی، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 ہزار سیاح دبئی ایئرپورٹ پر کئی دنوں تک پھنسے رہے اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دبئی نے برسوں کی محنت سے خود کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک محفوظ اقتصادی، سیاحتی اور پرتعیش مرکز کے طور پر قائم کیا تھا، جو خطے کی غیر یقینی سیاسی صورتحال سے الگ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم حالیہ واقعات نے اس امیج کو متاثر کیا ہے۔ پام جمیرہ کے علاقے میں ڈرون حملے میں چار افراد زخمی ہوئے جبکہ برج خلیفہ کے قریب دھواں اٹھنے کی ویڈیوز یکم مارچ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ان واقعات سے ظاہر ہوا کہ شہر کے اہم اقتصادی اور سیاحتی علاقوں کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
اس صورتحال پر متحدہ عرب امارات کے معروف بزنس مین اور ارب پتی خلف احمد الحبتور نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سوشل میڈیا پر ایک کھلا خط لکھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کو ایران کے خلاف جنگ میں گھسیٹنے کا حق کس نے دیا اور کیا اس کے ممکنہ نقصانات کا اندازہ لگایا گیا تھا۔
دبئی میں رہنے والوں میں تقریباً 90 فیصد غیر ملکی باشندے ہیں جو یہاں کی امن و استحکام کی وجہ سے مقیم ہوئے تھے۔ تاہم موجودہ صورتحال کے بعد بعض افراد شہر چھوڑنے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں، خصوصاً بھارتی نژاد افراد میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر متحدہ عرب امارات حکومت دبئی کی عالمی ساکھ کو برقرار رکھنے اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔



