جنرل نیوز

عادل آباد کے مستحقین میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی الاٹمنٹ میں تاخیر، مستحقین تذبذب کا شکار

عادل آباد، 14/ اپریل(اردو لیکس)عادل آباد شہر میں طویل عرصہ سے زیر التواء ڈبل بیڈ روم مکانات کی الاٹمنٹ کے معاملہ پر اب تک کوئی واضح پیش رفت نہ ہونے سے مستحقین میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات سے قبل جہاں انتظامیہ کی جانب سے الاٹمنٹ کے عمل کو تیز کرنے کے اشارے مل رہے تھے، وہیں انتخابات کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد یہ عمل اچانک رک گیا۔ انتخابات کو دو ماہ گزرنے کے باوجود صورتحال جوں کی توں برقرار ہے

 

۔۔ذرائع کے مطابق سابقہ حکومت کے دور میں جی+2 طرز پر مجموعی طور پر 982 مکانات تعمیر کئے گئے، جن پر 55.04 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ ان میں سے 222 مکانات 11.76 کروڑ روپے سے جبکہ کے آر کے کالونی میں 760 مکانات 40.28 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے۔تعمیر مکمل ہونے کے باوجود بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے سبب پانچ برس سے زائد عرصہ تک الاٹمنٹ عمل میں نہ آسکی۔اعداد و شمار کے مطابق ان مکانات کے لئے تقریباً 9 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں،

 

جن میں سے 574 مستحقین کا انتخاب کیا گیا جبکہ مزید 408 افراد کا انتخاب ہونا باقی ہے۔ مئی 2023 میں اس وقت کے ضلع کلکٹر راہول راج کی نگرانی میں 618 مکانات کے لئے قرعہ اندازی بھی کی گئی، تاہم بعد ازاں تصدیقی سروے میں صرف 491 افراد کو اہل قرار دیا گیا۔ مزید یہ کہ، وارڈ سبھا اجلاسوں کے دوران منتخب کئے گئے 102 افراد میں سے بھی صرف 83 ہی اہل پائے گئے

 

جبکہ 19 افراد کو نااہل قرار دیا گیا۔ ادھر موجودہ حکومت کی توجہ “اندرما ہاؤسنگ اسکیم” پر مرکوز ہونے کے باعث ڈبل بیڈ روم مکانات کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ میونسپل حدود میں پہلے مرحلہ کے تحت 1981 اندرما مکانات کو منظوری دی جا چکی ہے جبکہ مزید 1500 مکانات کی منظوری متوقع ہے۔ اس دوران بعض ایسے افراد کو اندرما مکانات بھی الاٹ کئے جا چکے ہیں جو پہلے ڈبل بیڈ روم اسکیم کے لئے منتخب ہوئے تھے

 

، جبکہ کچھ مستحقین کا انتقال بھی ہو چکا ہے۔ باوجود اس کے کہ 574 مستحقین کی حتمی فہرست تیار کی جا چکی ہے، الاٹمنٹ کے عمل میں تاخیر برقرار ہے۔ ہاؤسنگ محکمہ کے پراجکٹ ڈائریکٹر شنکر کے مطابق اس سلسلہ میں حکومت کی ہدایات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔شہریوں اور درخواست دہندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ برسوں سے تیار مکانات کو جلد از جلد مستحقین کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کی رہائشی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button