نیشنل

ممبئی میں 15 مئی سے پانی کی سربراہی میں کمی۔ بی ایم سی کا فیصلہ

ممبئی: برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن نے فیصلہ کیا ہے کہ 15 مئی سے ممبئی میں پانی کی فراہمی میں 10 فیصد کمی کی جائے گی۔ یہ احتیاطی قدم اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث شہر کی سات جھیلوں

 

میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے جاریہ سال اوسط سے کم مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ممبئی میں پینے کے پانی کی روزانہ فراہمی سات جھیلوں سے ہوتی ہے جن میں اپر ویترنا، موڈک

 

ساگر، تانسا، مڈل ویترنا، بھاتسا، وہار اور تولسی شامل ہیں۔ ان تمام جھیلوں کی مجموعی گنجائش 14.47 ملین لاکھ لیٹر ہے۔ پیر کے روز ان جھیلوں میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 3.40 ملین لاکھ لیٹر رہ گیا، جو کل گنجائش کا 23.52 فیصد ہے۔

 

گزشتہ سال اسی وقت یہ سطح 20.26 فیصد تک گر گئی تھی۔پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی کے باعث بی ایم سی نے اعلان کیا ہے کہ 15 مئی سے پورے ممبئی میں پانی کی فراہمی میں 10 فیصد کمی کی جائے گی۔ یہ فیصلہ

 

ریاستی محکمہ آبی وسائل کی ہدایت کے بعد لیا گیا ہے تاکہ پانی کے ذخائر کو طویل مدت تک محفوظ رکھا جا سکے۔یہ اقدام اس لیے بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے کیونکہ بھارتی محکمہ موسمیات (IMD) نے “ال نینو” کے اثر کے باعث اس

 

سال معمول سے کم بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔بی ایم سی کے مطابق بھاتسا سے اضافی 1.47 لاکھ ملین لیٹر اور اپر ویترنا سے 90 ہزار ملین لیٹر پانی کی فراہمی ممکن ہے۔ ایک سینئر افسر کے مطابق، “ہمارے پاس فی الحال کافی ذخیرہ

 

موجود ہے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں، لیکن بڑھتی گرمی اور پانی کے بخارات بننے کے باعث احتیاطاً یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔”پانی کی یہ کمی صرف ممبئی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ تھانے، بھِونڈی اور نظام پور کے علاقوں پر بھی اثر پڑے

 

گا۔ اس سے قبل 2023 اور 2024 کی گرمیوں میں بھی 10 فیصد پانی کی کٹوتی کی جا چکی ہے۔بی ایم سی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی کا محتاط استعمال کریں۔ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ پانی کی ٹینکیوں میں اوور

 

فلو نہ ہونے دیا جائے، گاڑیوں کی صفائی کے لیے پائپ کے بجائے گیلے کپڑے کا استعمال کیا جائے اور غیر ضروری پانی کے ضیاع سے بچا جائے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button