پون کلیان تلنگانہ میں بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں: محمد علی شبیر

حیدرآباد، 4 جون: تلنگانہ حکومت کے مشیر اور کانگریس کے سینئر قائد محمد علی شبیر نے جنا سینا پارٹی کے سربراہ اور آندھرا پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر پون کلیان کے تلنگانہ سے متعلق حالیہ بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ میں قومی ترانے یا قومی گیت کی مخالفت سے متعلق پون کلیان کے الزامات بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایسا کوئی مسئلہ موجود نہیں ہے اور جن سینا سربراہ محض سیاسی توجہ حاصل کرنے کے لیے فرضی تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’پون کلیان اپنی فلمی تخیلات کو سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تلنگانہ میں قومی ترانے، قومی گیت یا ہندوستان کے تصور سے متعلق کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ ایسے خیالی دعوے صرف شکوک و شبہات پیدا کرنے، جذبات بھڑکانے اور بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو فائدہ پہنچانے کے لیے کئے جا رہے ہیں۔‘‘
شبیر علی نے کہا کہ تلنگانہ نے ہمیشہ آئینی اقدار، سیکولرازم اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھا ہے، ساتھ ہی اپنی شناخت اور خودداری کا بھی تحفظ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں جب عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو جذباتی اور مصنوعی تنازعات پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام اتنے باشعور ہیں کہ وہ پون کلیان کے بیانات کے پیچھے کارفرما سیاسی مقاصد کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق جنا سینا، جس کی تلنگانہ میں کوئی مضبوط تنظیمی بنیاد نہیں ہے، مذہبی اور علاقائی نعروں کے ذریعے سیاسی شناخت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
شبیر علی نے کہا، ’’تلنگانہ کے عوام حقیقی سیاست اور سیاسی اداکاری میں فرق جانتے ہیں۔ پون کلیان ایک کامیاب اداکار ہو سکتے ہیں، لیکن تلنگانہ کوئی فلمی سیٹ نہیں جہاں تالیاں بٹورنے کے لئے لیے فرضی مناظر تخلیق کئے جائیں۔‘‘
آئندہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں جنا سینا کی بھرپور شرکت کے پون کلیان کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شبیر علی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے جنا سینا نے اس سے پہلے کبھی تلنگانہ میں انتخابات نہیں لڑے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے تحت جنا سینا نے آٹھ نشستوں پر مقابلہ کیا تھا، لیکن تمام امیدوار اپنی ضمانتیں ضبط کروا بیٹھے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں جنا سینا کو صرف 0.25 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے، جبکہ فروری 2026 کے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی نے 336 امیدوار میدان میں اتارے لیکن صرف نریدوچرلا اور منچیریال میں ایک ایک وارڈ جیت سکی۔ مجموعی ووٹ شیئر تقریباً 0.3 فیصد رہا۔
شبیر علی نے کہا کہ ’’یہ اعداد و شمار سیاسی الزام نہیں بلکہ عوام کا فیصلہ ہیں۔ تلنگانہ پہلے ہی جن سینا کو اس کی سیاسی حیثیت دکھا چکا ہے۔ اپنی ناکامیوں کا جائزہ لینے کے بجائے پون کلیان تلنگانہ کو موردِ الزام ٹھہرا کر تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ آئین ہر سیاسی جماعت کو ملک کے کسی بھی حصے میں انتخابات لڑنے کا حق دیتا ہے، لیکن اس حق کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ریاست کی توہین کی جائے، عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے یا فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جائے۔
شبیر علی نے پون کلیان کو مشورہ دیا کہ وہ تلنگانہ میں تنازعات پیدا کرنے کے بجائے آندھرا پردیش میں اپنی حکومتی ذمہ داریوں پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام ایسے قائدین کو قبول نہیں کریں گے جو صرف اشتعال انگیز تقاریر کے لیے ریاست کا دورہ کریں اور پھر غائب ہو جائیں۔
کانگریس قائد نے مطالبہ کیا کہ پون کلیان اپنے بیانات واپس لیں اور تلنگانہ کے عوام سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو جمہوری انداز میں مقابلہ کرنا چاہیے، لیکن فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے یا تلنگانہ کی تشکیل سے وابستہ جذبات کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔



