نیشنل

عیدالاضحی کے موقع پر گاو کشی کے الزام میں دو افراد کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ نافذ

بھوپال:  مدھیہ پردیش کے ضلع اندور کے مہو علاقے میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر مبینہ گاو کشی کے معاملہ میں گرفتار دو افراد کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ 29 مئی کو پیش آیا تھا، جس کے سلسلہ میں چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

 

پولیس کے مطابق ملزمین کی شناخت قادر، عمران، ہاشم اور محمد افضل کے طور پر کی گئی ہے۔ واردات کے وقت قادر کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا تھا، جبکہ دیگر ملزمین فرار ہوگئے تھے۔ بعد ازاں محمد آباد کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا۔

 

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اومکانت چودھری نے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رپورٹ کی بنیاد پر ضلع انتظامیہ نے گرفتار دونوں ملزمان کے خلاف این ایس اے کے تحت کارروائی کا حکم جاری کیا ہے۔

 

حکام کے مطابق ملزمین کے خلاف ماضی میں بھی گاو کشی اور امن عامہ میں خلل ڈالنے جیسے کئی مقدمات درج ہیں۔ دوسری جانب عمران اور ہاشم تاحال مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لئے پولیس کی خصوصی ٹیمیں سرگرم ہیں۔

 

معاملے کی تیز رفتار تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔ پولیس نے اس کیس میں مدھیہ پردیش گاو کشی انسداد قانون اور آرمس ایکٹ کی مختلف دفعات بھی شامل کی ہیں۔

 

نیشنل سکیورٹی ایکٹ (NSA) کیا ہے؟

نیشنل سکیورٹی ایکٹ (National Security Act – NSA) بھارت کا ایک قانون ہے جو 1980 میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت حکومت کسی شخص کو ملک کی سلامتی، عوامی نظم و نسق یا امن و امان کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے بغیر باقاعدہ مقدمہ چلائے احتیاطی حراست (Preventive Detention) میں رکھ سکتی ہے۔

 

اہم نکات:

این ایس اے کے تحت کسی شخص کو 12 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

گرفتار شخص کو فوری طور پر ضمانت حاصل نہیں ہوتی۔

حکومت بعض صورتوں میں گرفتاری کی مکمل وجوہات ظاہر کرنے کی پابند نہیں ہوتی۔

اس قانون کا مقصد جرم کی سزا دینا نہیں بلکہ کسی ممکنہ خطرے یا امن و امان کی خرابی کو روکنا ہوتا ہے۔

بھارت میں این ایس اے عموماً ایسے معاملات میں استعمال کیا جاتا ہے جنہیں حکومت یا انتظامیہ قومی سلامتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا امن عامہ کے لیے خطرہ تصور کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button