ریاستی حکومت زمینوں کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار میں ملوث : کویتا

ریاستی حکومت زمینوں کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار میں ملوث
ثبوتوں کے ساتھ تمام تفصیلات عنقریب پیش کی جائیں گی
تلنگانہ کی ایک ایک انچ زمین کے تحفظ کے لئے جان کی بازی لگانے کا عزم : کے کویتا
بنجارہ ہلز میں واقع تلنگانہ رکشنا سینا کے مرکزی دفتر میں پارٹی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر شدید تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپئے مالیت کی اراضی بڑے بااثر افراد کے حوالے کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے قریبی افراد، وزراء، کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی زمینوں کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار میں ملوث ہیں اور وہ تمام تفصیلات کو ثبوتوں کے ساتھ عوام کے سامنے بے نقاب کریں گی
۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غریبوں کے ساتھ ناانصافی کرتے ہوئے امیروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے ۔ زمینوں کے غیر قانونی الاٹمنٹ کی سازش کی جا رہی ہے۔کویتا نے کہا کہ "حیدرا” نامی ادارے کے ذریعہ زمینوں کے گھوٹالوں میں ملوث افراد کو عوام کے سامنے لایا جائے گا اور اس میں شامل تمام افراد کے خلاف ثبوت پیش کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے وسائل، ثقافت اور شناخت کے تحفظ کے لئے ہی ان کی جماعت قائم کی گئی ہے
اور وہ ریاست کی زمینوں کے تحفظ کے لئے بھرپور جدوجہد کریں گی۔ ضرورت پڑنے پر معاملہ سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت مستقبل کی ضروریات کو نظرانداز کرتے ہوئے زمینیں فروخت کر رہی ہے جبکہ آنے والی نسلوں کے لئے زمینوں کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ "حیدرا” ادارہ غریبوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کوکٹ پلی کے منجیرہ کالونی میں زمینیں خالی کرا رہا ہے
، لیکن دریائے موسیٰ کے بیڈ میں تعمیر ہونے والی "سری آدتیہ” بلڈنگ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بلڈنگ کے پس پردہ ایک رکن پارلیمنٹ کا ہاتھ ہے جس کا نام وہ جلد ہی منظر عام پر لائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پریماوتی پیٹ کے بڑے تالاب کی زمین پر بھی قبضہ کیا گیا ہے جہاں 2021 میں اجازت دی گئی اور بعد میں مزید تجاوزات کئے گئے، جس کی مالیت سینکڑوں کروڑ روپے ہے۔
انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ کیا "حیدرا” اس معاملہ میں کارروائی کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔کویتا نے کہا کہ ناگارم میونسپلٹی کے حدود میں ایک اسلحہ ساز کمپنی نے بھی پانچ ایکڑ زمین پر قبضہ کیا ہے اور اس کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ موجودہ حکومت کی بدعنوانیوں میں "حیدرا” صرف ایک چھوٹا حصہ ہے اور اصل بدعنوانی کہیں زیادہ بڑی ہیں
۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بی آر ایس حکومت نے زمینوں کے استحصال کے لئے راستے کھولے تو موجودہ حکومت نے انہیں مزید وسیع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تلنگانہ کے وسائل کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گی اور اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ایک ایک انچ زمین کا تحفظ کریں گی۔ ایک انچ زمین کی بھی لوٹ کھسوٹ ہونے نہیں دی جائے گی۔ کویتا نے اداکار و سیاستدان پون کلیان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر 10 ایکڑ شکم زمین حکومت کو واپس کریں، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ آبی ذخائر کی زمین ہے اور اس کے رجسٹریشن میں بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو آندھرا کے "زہریلے پنجوں” سے حاصل کیا گیا ہے
اور یہ ریاست تلنگانہ کے عوام کی ملکیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وسائل پر کسی قسم کی لوٹ مار برداشت نہیں کی جائے گی اور اس کے خلاف سخت جدوجہد کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کو ریاست میں قیادت کے فقدان کا سامنا ہے اور وہ پون کلیان کے ذریعہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مرکز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں مکمل دھان خریدنے والی حکومت تلنگانہ میں پابندیاں عائد کر رہی ہے۔کویتا نے کہا کہ ریاست کے آبی وسائل کے معاملے میں بھی حکومت سنجیدہ نہیں ہے اور وزیراعلیٰ کو اس موضوع پر مزید معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے
۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آندھرا پردیش سے پانی کے مسائل پر واضح بات کی جائے اور تلنگانہ کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے جہدکاروں کو زمین فراہم کی جانی چاہئے اور اس مطالبہ کے لئے آئندہ ماہ اپل بھگایت میں بڑا احتجاج منظم کیا جائے گا۔ انہوں نے نادرگل میں موجود 200 ایکڑ زمین جہد کاروں کو دینے کا مطالبہ کیا۔



