مہاراشٹر اسمبلی میں قرآن، یکساں سول کوڈ اور شخصی قوانین پر گرما گرم بحث – رکن اسمبلی ثنا ملک کے بیان پر ہنگامہ
ممبئی : مہاراشٹر اسمبلی میں این سی پی (اجیت پوار گروپ) کی رکن اسمبلی ثنا ملک کے بیانات پر سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ بی جے پی رکن اسمبلی دیویانی فاراندے کی جانب سے تین طلاق قانون اور خواتین کے تحفظ سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث کے دوران معاملہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) اور شخصی قوانین تک پہنچ گیا۔
بحث کے دوران این سی پی رکن اسمبلی ثنا ملک نے کہا کہ اسلام میں قرآن کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاری جاتی ہے اور اگر بعض ممالک نے قرآن کی بنیاد پر قوانین بنائے ہیں تو ہندوستان میں بھی ایسے قوانین پر غور کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے شخصی قوانین اور مذہبی تعلیمات کا احترام کیا جانا چاہئے۔
ثنا ملک نے مختلف اسلامی طریقہ ہائے طلاق، بشمول طلاقِ حسن، طلاقِ احسن اور طلاقِ بدعت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ فوری تین طلاق کو جس انداز میں پیش کیا گیا، وہ زمینی حقیقت سے مختلف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کٹرت ازدواج صرف ایک مذہب تک محدود نہیں بلکہ مختلف معاشروں میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔
ان بیانات پر بی جے پی اراکین نے سخت اعتراض کیا۔ بی جے پی ایم ایل اے نے کہا کہ ملک کا نظام آئین ہند کے مطابق چلتا ہے، نہ کہ کسی مذہبی کتاب کی بنیاد پر۔ انہوں نے زور دیا کہ یکساں سول کوڈ اور شخصی قوانین سے متعلق بحث آئینی دائرے میں ہی ہونی چاہئے۔
ثنا ملک کے بیانات کے بعد اسمبلی میں گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی اور حکمراں و اپوزیشن ارکان کے درمیان لفظی نوک جھونک بھی ہوئی۔




