مضامین

یومِ عاشورہ: رسموں کا دن نہیں پیغامِ حسینؓ کا دن ہے

محمد فداء المصطفیٰ قادری

رابطہ نمبر:903709973

جامعہ دارالہدی اسلامیہ، ملاپور،کیرالا

اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے، اور اس مہینے کو اللہ تعالیٰ نے حرمت و عظمت والے مہینوں میں شمار فرمایا ہے۔ محرم کی دسویں تاریخ، جسے یومِ عاشورہ کہا جاتا ہے، اسلامی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیائے کرام علیہم السلام پر اپنے خاص انعامات و احسانات نازل فرمائے، اور اسی دن کے روزے کی فضیلت احادیثِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہے۔ یومِ عاشورہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت، شکر گزاری، صبر و استقامت اور دینِ حق پر ثابت قدمی کا درس دیتا ہے۔

 

اسی مبارک دن سے تاریخِ اسلام کا ایک عظیم اور دردناک باب بھی وابستہ ہے، جب نواسۂ رسول، سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جان نثار ساتھیوں نے میدانِ کربلا میں حق و صداقت کی سربلندی اور دینِ اسلام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی یہ عظیم قربانی رہتی دنیا تک اہلِ اسلام کے لیے صبر، استقامت، جرأت، حق گوئی اور باطل کے سامنے نہ جھکنے کی روشن مثال ہے۔

 

افسوس کا مقام ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے لوگوں نے یومِ عاشورہ کے حقیقی پیغام کو پسِ پشت ڈال کر اسے محض چند رسموں اور ظاہری مظاہروں تک محدود کر دیا ہے۔ کہیں تعزیوں اور جلوسوں میں غلو کیا جاتا ہے، کہیں شور و غوغا اور غیر شرعی رسومات کو دین کا حصہ سمجھ لیا جاتا ہے، اور کہیں امام حسین رضی اللہ عنہ کی محبت کے نام پر ایسے اعمال انجام دیے جاتے ہیں جن کا نہ قرآن و سنت سے تعلق ہے اور نہ ہی سیرتِ حسینی سے کوئی واسطہ۔ نتیجتاً وہ عظیم مقصد، جس کے لیے امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان قربان کی، ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔

 

ضرورت اس امر کی ہے کہ یومِ عاشورہ کو محض رسموں، نعروں اور ظاہری مظاہروں کا دن بنانے کے بجائے اسے پیغامِ حسین رضی اللہ عنہ کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ کیونکہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے ہمیں صرف محبت کا درس نہیں دیا بلکہ نماز کی پابندی، حق پر استقامت، ظلم کی مخالفت، سچائی، دیانت داری، تقویٰ اور دین کے لیے ہر قربانی دینے کا عملی نمونہ بھی عطا فرمایا۔ آج اگر ہم واقعی امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی زندگیوں کو ان تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

 

مگر افسوس! آج جب ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یومِ عاشورہ کے حقیقی پیغام اور موجودہ طرزِ عمل کے درمیان ایک واضح خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ جس دن کو اللہ تعالیٰ کی یاد، شکر گزاری، عبادت، صبر و استقامت اور پیغامِ کربلا کو سمجھنے کا ذریعہ بننا چاہیے تھا، اسی دن کو بعض لوگوں نے مختلف رسم و رواج اور غیر شرعی اعمال کا مجموعہ بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں عاشورہ آتے ہی تعزیے تیار کیے جاتے ہیں، انہیں گلیوں، کوچوں اور محلوں میں گھمایا جاتا ہے، ڈھول تاشوں اور مختلف قسم کے باجوں کے ساتھ جلوس نکالے جاتے ہیں، اور ایسے بہت سے کام انجام دیے جاتے ہیں جن کا نہ قرآن و سنت میں کوئی ثبوت ملتا ہے اور نہ ہی سیرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ سے ان کا کوئی تعلق نظر آتا ہے۔ بعض مقامات پر اس دن کو ایک تہوار یا نمائشی اجتماع کی شکل دے دی جاتی ہے، جہاں اصل مقصد یعنی دین کی سمجھ، اصلاحِ نفس اور پیغامِ کربلا کو عام کرنے کے بجائے ظاہری سرگرمیوں اور ہجوم آرائی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

 

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت اور عقیدت کا دعویٰ تو کرتے ہیں، ان کے نام پر جذباتی نعرے بھی لگاتے ہیں، لیکن ان کی تعلیمات اور سیرتِ مبارکہ کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ زبان پر محبتِ حسینؓ کے دعوے ہوتے ہیں مگر معاملات میں جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی، وعدہ خلافی، خیانت، ظلم، حسد، غیبت اور دیگر اخلاقی برائیاں موجود رہتی ہیں۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے نماز کی حفاظت کی تعلیم دی، مگر بہت سے دعویدارانِ محبت نمازوں سے غافل نظر آتے ہیں۔ انہوں نے حق اور سچائی کے لیے اپنی جان قربان کر دی، مگر آج بعض لوگ معمولی مفادات کی خاطر حق کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے کا درس دیا، مگر ہم میں سے بہت سے لوگ ظلم کو دیکھ کر خاموش رہتے ہیں یا خود ظلم کا حصہ بن جاتے ہیں۔

 

حقیقت یہ ہے کہ اگر عاشورہ کے دن ہماری توجہ صرف ظاہری رسومات، نمائشی سرگرمیوں اور جذباتی نعروں تک محدود رہے اور ہماری زندگیوں میں سچائی، دیانت داری، تقویٰ، نماز کی پابندی، حقوق العباد کی ادائیگی اور حق پر استقامت پیدا نہ ہو تو ہم کربلا کے اصل پیغام سے محروم رہ جائیں گے۔ یومِ عاشورہ ہمیں رسموں اور مظاہروں کی طرف نہیں بلکہ اپنے کردار، عقیدے اور عمل کی اصلاح کی طرف بلاتا ہے، تاکہ ہم حقیقی معنوں میں امام حسین رضی اللہ عنہ کے پیغام کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کر سکیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہر صاحبِ ایمان کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ آخر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اصل پیغام کیا ہے؟ کیا کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ ہے جسے ہر سال یاد کر لیا جائے، یا یہ ایک ایسی ابدی درسگاہ ہے جو ہر دور کے انسان کو زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ سکھاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کربلا کا پیغام محض جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل عملی ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حق و باطل کے درمیان فرق کرنا سکھاتا ہے۔

 

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی رضا حاصل کرنا ہے۔ جب حق اور باطل کے درمیان معرکہ برپا ہو جائے تو اہلِ ایمان کا فرض ہے کہ وہ حق کا ساتھ دیں، خواہ اس کے لیے انہیں کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ آپؓ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ایمان کا تقاضا صرف زبانی دعووں سے پورا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے کردار، عمل اور استقامت بھی ضروری ہے۔

 

پیغامِ حسینؓ دراصل نماز کی پابندی، اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق، سچائی، دیانت داری، اخلاص اور تقویٰ کا پیغام ہے۔ یہ اس عزم کا نام ہے کہ انسان ہر حال میں حق بات کہے، انصاف کا ساتھ دے، اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، امانتوں کی حفاظت کرے اور دین کے احکام پر ثابت قدم رہے۔ یہ ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، باہمی خیر خواہی اور اخلاقِ حسنہ کو فروغ دینے کی دعوت بھی ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل سے بتایا کہ عزت و سربلندی کا راستہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دین کی وفاداری میں ہے، نہ کہ دنیاوی مفادات اور وقتی مصلحتوں میں۔

 

 

اسی طرح پیغامِ حسینؓ انسان کو ہر اس برائی سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی، منافقت، غداری، رشوت، ظلم، بددیانتی اور گناہوں کی دیگر صورتیں درحقیقت اسی فکر کے منافی ہیں جس کے لیے امام حسین رضی اللہ عنہ نے قربانی پیش کی تھی۔ جو شخص دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے، معاملات میں خیانت کرتا ہے، اپنے مفاد کے لیے سچائی کا گلا گھونٹ دیتا ہے یا ظلم و ناانصافی کا ساتھ دیتا ہے، وہ کربلا کے حقیقی سبق سے ناواقف ہے۔

 

لہٰذا یومِ عاشورہ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کو محض ایک یادگار واقعہ کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے اپنی زندگی کے لیے ایک معیار بنائیں۔ جب ہماری عبادات میں اخلاص، ہمارے کردار میں دیانت، ہمارے معاملات میں سچائی اور ہمارے فیصلوں میں حق پسندی پیدا ہو جائے گی، تبھی ہم یہ کہنے کے حق دار ہوں گے کہ ہم نے پیغامِ حسینؓ کو سمجھا اور اسے اپنی زندگی میں جگہ دی ہے۔ اگر پیغامِ حسینؓ کا تقاضا صرف سن لینے اور بیان کر دینے تک محدود نہیں بلکہ اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہے، تو پھر ہمیں اپنے ضمیر کے سامنے چند اہم سوالات بھی رکھنا ہوں گے۔ یہ سوالات کسی دوسرے کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہیں، کیونکہ ہر شخص خود اپنے بارے میں سب سے بہتر فیصلہ کر سکتا ہے۔

 

ہم میں سے بہت سے لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں، ہم ان کے ماننے والے ہیں، ہم ان کے پیروکار ہیں اور ہم خود کو حسینی کہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف دعویٰ کر لینا ہی کافی ہے؟ کیا کسی عظیم شخصیت سے وابستگی کا ثبوت صرف نعروں اور جذباتی اظہار سے مل جاتا ہے، یا پھر اس کے لیے اس کی فکر، کردار اور طرزِ زندگی کو بھی اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے؟ اگر ہم واقعی حسینی ہیں تو پھر ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں فکرِ حسینؓ کی جھلک کیوں نظر نہیں آتی؟ اگر ہم امام حسین رضی اللہ عنہ کے سچے پیروکار ہیں تو ان کی سیرت ہمارے لیے نمونۂ حیات اور مشعلِ راہ کیوں نہیں بن سکی؟ اگر ہم ان سے محبت کرتے ہیں تو کیا ان کی پسندیدہ اقدار بھی ہمیں محبوب ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اپنے اعمال کا جائزہ لیا ہے کہ ہمارا طرزِ زندگی کس حد تک ان کے راستے سے ہم آہنگ ہے؟

 

کیا ہم اپنے گھروں، بازاروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور معاشرتی زندگی میں ایسے کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں جسے دیکھ کر کہا جا سکے کہ یہ کسی عظیم حسینی فکر کا اثر ہے؟ کیا ہمارے رویّے دوسروں کے لیے خیر، انصاف اور بھلائی کا سبب بنتے ہیں؟ کیا ہم اپنے اہلِ خانہ، پڑوسیوں، دوستوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ وہی طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں جو ایک سچے مسلمان کو زیب دیتا ہے؟ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ جس شخصیت کے نام پر ہم اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، اگر آج وہ ہمارے اعمال، ہمارے معاملات، ہمارے اخلاق اور ہماری ترجیحات کو دیکھیں تو کیا ہم ان کی توقعات پر پورا اتر سکیں گے؟ کیا ہماری زندگی ان کے پیغام کی ترجمان ہے یا صرف ان کے نام سے وابستگی کا دعویٰ؟

 

یہ سوالات محض تنقید کے لیے نہیں بلکہ خود احتسابی کے لیے ہیں۔ کیونکہ قوموں کی اصلاح اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ دوسروں کا محاسبہ کرنے سے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کریں۔ یومِ عاشورہ ہمیں یہی دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے دعووں کو اپنے کردار کے آئینے میں دیکھیں، اپنے عقیدت کے اظہار کو اپنے عمل کی کسوٹی پر پرکھیں، اور یہ فیصلہ کریں کہ ہم صرف نام کے حسینی ہیں یا واقعی فکر و کردار کے اعتبار سے بھی حسینی بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

 

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یومِ عاشورہ محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ حق، صداقت، استقامت اور وفاداریِ دین کا عظیم پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ واقعۂ کربلا ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم رسموں اور ظاہری مظاہروں میں الجھ جائیں، بلکہ یہ ہمیں اپنے کردار، اپنے عقیدے اور اپنے اعمال کی اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے خونِ مبارک سے یہ سبق دیا کہ ایک مسلمان ہر حال میں حق کا ساتھ دے، باطل سے نفرت کرے، دین پر ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھے۔

 

کربلا کا درس تعزیوں، شور و غوغا، بے مقصد مظاہروں اور غیر شرعی رسومات میں نہیں، بلکہ نماز کی پابندی، سچائی، دیانت داری، تقویٰ، عدل و انصاف، حقوق العباد کی ادائیگی اور نیکی کے راستے پر چلنے میں ہے۔ اگر یومِ عاشورہ کے بعد ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا ہو جائے، ہمارے اخلاق بہتر ہو جائیں، ہمارے معاملات درست ہو جائیں اور ہم گناہوں اور برائیوں سے بچنے کا عزم کر لیں، تو یہی امام حسین رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔

 

آئیے! اس عاشورہ پر ہم صرف واقعۂ کربلا کو یاد نہ کریں بلکہ اس کے پیغام کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ ہم زبان سے نہیں بلکہ اپنے کردار اور عمل سے یہ ثابت کر سکیں کہ ہم واقعی امام حسین رضی اللہ عنہ کے سچے محب اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں۔

 

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button