ممبئی میں محرم الحرام: شیعہ مجالس کے ساتھ سنی علمائے کرام کے واعظ، عقیدت و احترام کی قدیم روایت
جاوید جمال الدین جاوید
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا اور حرمت والا مہینہ ہے، جس کا آغاز دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے غم، ایثار، قربانی اور حق و صداقت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ واقعۂ کربلا کی نسبت سے یہ مہینہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار رفقا کی لازوال قربانی مسلمانوں کو ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے، حق کا ساتھ دینے اور انسانی وقار کی حفاظت کا درس دیتی ہے۔ یومِ عاشورہ کی اپنی منفرد مذہبی اور تاریخی اہمیت ہے اور اسلامی روایات میں متعدد اہم واقعات اس دن سے منسوب ہیں۔
ممبئی میں محرم الحرام کی روایات صرف اہلِ تشیع تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہ شہر کی مذہبی، سماجی اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔ یہاں جہاں شیعہ برادری کی جانب سے مجالسِ عزا، ماتمی جلوس اور نوحہ خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے، وہیں اہلِ سنت والجماعت کے علمائے کرام بھی عشرۂ محرم کے دوران مختلف مساجد، مدارس اور دینی اداروں میں خصوصی خطابات اور وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔
ان مجالس اور بیانات میں ابتدائی دنوں میں اسلامی تاریخ، سیرتِ نبویؐ، اصلاحِ معاشرہ، اخلاقی تربیت اور شرعی مسائل پر روشنی ڈالی جاتی ہے، جبکہ سات محرم کے بعد واقعاتِ کربلا، حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی، اہلِ بیتِ اطہارؓ کی استقامت اور شہدائے کربلا کے پیغام کو تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس طرح محرم کے ایام پورے شہر میں دینی بیداری، فکری اصلاح اور روحانی وابستگی کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
گزشتہ نصف صدی کے دوران ممبئی میں محرم کے اجتماعات میں ملک کے ممتاز شیعہ علماء اور ذاکرین شرکت کرتے رہے ہیں۔ مولانا عباس رضوی، مولانا ظہیر عباس رضوی، لکھنؤ کے مولانا کلب صادق اور مولانا کلب جواد سمیت متعدد معروف شخصیات ہر سال عشرۂ محرم میں ممبئی آکر مجالس سے خطاب کرتی رہیں،اب نئی نسل کے علمائے کرام تشریف لا رہے ہیں۔ اسی طرح اہلِ سنت کے ممتاز علماء میں مولانا یونس پالن پوری، مولانا عبدالقادر کھتری، سابق رکنِ پارلیمان مولانا عبیداللہ خان اعظمی، مولانا ضیاء الدین بخاری، مولانا عبد القدوس کشمیری، مولانا منصور علی خان، مولانا فیض احمد فیض اور مولانا شاہد احمد کشن گنج کے خطابات نے بھی محرم کی دینی روایت کو مضبوط بنایا۔
آج بھی ممبئی کے مختلف علاقوں میں یہ سلسلہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ بریلوی مکتبِ فکر کے مولانا معین اشرف، مولانا سعید نوری اور مولانا خلیل الرحمن نوری کے علاوہ دیوبندی علماء بھی عشرۂ محرم میں خصوصی بیانات کرتے ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں، خصوصاً پٹھان واڑی اور پیرولین میں حضرت مولانا مفتی حامد ظفر علی قاسمی، مولانا یونس، مولانا مستقیم قاسمی، بھیونڈی کے مولانا اظہری اور دیگر علمائے کرام کے خطابات میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔
گزشتہ دو تین دہائیوں میں محرم الحرام اکثر موسمِ برسات میں آنے اور رات دس بجے کے بعد لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر قانونی پابندیوں کے باعث اجتماعات کی نوعیت میں کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے۔ اب گلیوں اور سڑکوں کے بجائے مساجد، مدارس اور دینی مراکز محرم کے وعظ و خطابات کے اہم مراکز بن گئے ہیں، تاہم اہلِ تشیع کی مجالسِ عزا، ماتمی اجتماعات اور دیگر مذہبی تقریبات بدستور عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوتی ہیں اور شہر بھر میں محرم کی روحانی فضا برقرار رہتی ہے۔
محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی ممبئی میں سوگ، عقیدت، ایثار اور انسان دوستی کی صدیوں پرانی روایات ایک بار پھر زندہ ہو گئی ہیں۔ اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم الحرام کے آغاز پر شہر کی امام بارگاہوں، مساجد اور مذہبی مراکز میں مجالس عزا کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جبکہ عاشورہ تک مختلف علاقوں میں عزاداری، نوحہ خوانی، مرثیہ خوانی اور سبیلوں کے اہتمام کا سلسلہ جاری رہے گا۔
تاریخی اعتبار سے ممبئی میں محرم کی روایت تقریباً دو صدیوں پر محیط ہے۔ مؤرخین کے مطابق انیسویں صدی کے اوائل میں جب بمبئی ایک اہم تجارتی اور بندرگاہی شہر کے طور پر ابھر رہا تھا، اس وقت محرم یہاں کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہوتا تھا۔ اس دور میں تعزیوں اور جلوسوں میں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو اور پارسی برادری کے افراد بھی شریک ہوتے تھے اور امام حسینؓ کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے تھے۔
1893 کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد محرم کی تقریبات کی نوعیت میں تبدیلی آئی اور برطانوی حکومت کی جانب سے عوامی اجتماعات پر عائد پابندیوں کے باعث مذہبی سرگرمیاں محدود دائرے میں منتقل ہو گئیں۔ بعد ازاں اتر پردیش، بالخصوص لکھنؤ، اور ایران سے تعلق رکھنے والے شیعہ خاندانوں کی بڑی تعداد ممبئی میں آباد ہوئی، جس کے نتیجے میں شہر میں عزاداری کی روایات مزید مستحکم ہوئیں۔
جنوبی ممبئی کا ڈونگری علاقہ آج بھی محرم کی سرگرمیوں کا مرکزی محور سمجھا جاتا ہے۔ یہاں واقع تاریخی امام بارگاہیں، زینبیہ ہال اور دیگر مذہبی مراکز میں روزانہ بڑی تعداد میں عزادار شریک ہو رہے ہیں۔ اگرچہ باندرہ، بائیکلہ، ممبرا، میرا روڈ، ورسووا اور دیگر علاقوں میں بھی مجالس اور جلوسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاہم عاشورہ کے موقع پر ڈونگری اور بھنڈی بازار میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آتا ہے۔
یکم محرم سے دسویں محرم تک منعقد ہونے والی مجالس میں علمائے کرام اور ذاکرین واقعۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ مجالس میں حضرت امام حسینؓ، حضرت عباسؓ، حضرت زینبؓ اور دیگر شہدائے کربلا کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے، جبکہ نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کے ذریعے عزادار اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔شہر بھر میں سبیلوں کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ کربلا میں اہلِ بیتؑ کو پانی سے محروم رکھے جانے کی یاد میں مختلف مقامات پر پانی، شربت، دودھ اور دیگر مشروبات بلا تفریق مذہب و ملت تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ڈونگری، بھنڈی بازار، محمد علی روڈ، بائیکلہ، باندرہ، میرا روڈ اور ممبرا سمیت متعدد علاقوں میں قائم سبیلیں خدمت خلق اور انسانی ہمدردی کی روشن مثال پیش کر رہی ہیں۔
محرم کے دوران بھنڈی بازار، مجگاؤں اور محمد علی روڈ کے علاقوں میں بھی غیر معمولی گہماگہمی دیکھی جا رہی ہے، جہاں بوہرہ، اثنا عشری اور خوجہ شیعہ برادری کے افراد بڑی تعداد میں مجالس اور مذہبی اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں۔ ان علاقوں میں واقع روحانی پیشواؤں کے مزارات پر بھی عقیدت مندوں کی آمد جاری ہے۔دسویں محرم، یومِ عاشورہ کے موقع پر شہر کے مختلف حصوں سے ماتمی جلوس برآمد ہوں گے۔ عزادار سینہ زنی اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ پولیس اور شہری انتظامیہ نے جلوسوں کے پرامن انعقاد اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات شروع کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ممبئی کے محرم پر ایرانی اور لکھنوی تہذیب کے اثرات نمایاں ہیں۔ آج بھی متعدد مجالس میں لکھنوی انداز کی مرثیہ خوانی اور ایرانی طرز کی عزاداری دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ لکھنؤ سے معروف علمائے کرام اور ذاکرین خصوصی طور پر محرم کے اجتماعات سے خطاب کے لیے ممبئی آتے ہیں۔سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ محرم کی تقریبات ممبئی کی گنگا جمنی تہذیب اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت ہیں۔ خدمت خلق، ایثار، رواداری اور انسان دوستی کے جذبات اس موقع پر نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جو واقعۂ کربلا کے عالمگیر پیغام کو اجاگر کرتے ہیں۔
محرم الحرام کے موقع پر شہر کی فضا سوگ و عقیدت کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے اور عزادار امام حسینؓ کی لازوال قربانی کو یاد کرتے ہوئے حق، انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کے عزم کی تجدید کر رہے ہیں۔



