تلنگانہ ہائی کورٹ کا ایس آئی آر فارم صرف تلگو میں تقسیم کرنے پر سوال – کریم نگر کے سماجی کارکن مجیب کی عرضی پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب
حیدرآباد، 25 جون: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن مہم کے دوران مردم شماری (Enumeration) فارم صرف تلگو زبان میں تقسیم کئے جانے پر سوالات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے وضاحت طلب کی ہے۔
کریم نگر سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن ایم اے مجیب ایوب کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن پر جسٹس پُلا کارتک نے سماعت کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تلنگانہ میں مختلف لسانی، مذہبی اور اقلیتی برادریاں آباد ہیں، ایسے میں جی ایچ ایم سی حدود کے باہر صرف تلگو زبان میں فارموں کی تقسیم غیر تلگو بولنے والے ووٹروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل وی راگھوناتھ نے عدالت کو بتایا کہ انتخابی عمل میں شرکت ایک آئینی حق ہے اور ووٹروں کو اپنے نام ووٹر فہرست میں برقرار رکھنے یا شامل کرنے سے متعلق فارم سمجھنے کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جی ایچ ایم سی حدود میں انگریزی فارم فراہم کئے جا رہے ہیں، لیکن دیگر اضلاع کے ووٹروں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے، جو امتیازی رویہ ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ریاست میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ ووٹر اس عمل کا حصہ ہیں اور فارم پہلے ہی چھاپے جا چکے ہیں۔ کمیشن کے مطابق جی ایچ ایم سی کے شہری مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں انگریزی فارم فراہم کئے گئے جبکہ دیگر علاقوں میں تلگو زبان کو اختیار کیا گیا۔
کمیشن نے مزید کہا کہ بوتھ لیول افسران اپنے دوروں کے دوران انگریزی نمونہ فارم ساتھ رکھتے ہیں اور درخواست پر انگریزی فارم بھی فراہم کئے جا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں انگریزی، تلگو اور اردو زبانوں میں فارم آن لائن دستیاب ہیں، جنہیں ڈاؤن لوڈ اور پرنٹ کیا جا سکتا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ تلگو زبان سے ناواقف افراد کو فارم سمجھنے میں حقیقی دشواری پیش آ سکتی ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ انگریزی فارموں کی تقسیم کو صرف جی ایچ ایم سی تک محدود رکھنے کی کیا منطق ہے، جبکہ سی بی ایس ای اور دیگر تعلیمی نظاموں میں تعلیم حاصل کرنے والے کئی نوجوان تلگو میں مہارت نہیں رکھتے۔
عدالت نے اقلیتی برادریوں کے مفادات کے تحفظ سے متعلق بھی سوالات کرتے ہوئے کہا کہ صرف آن لائن متبادل زبانوں کی دستیابی کو بنیاد بنا کر رسائی کے مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کی نمائندگی پر الیکشن کمیشن کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور اگر معاملہ مناسب طریقہ سے حل نہ ہوا تو عدالت اس سے جڑے آئینی اور قانونی نکات کا جائزہ لے سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ آئندہ سماعت میں کمیشن اپنا تفصیلی موقف پیش کرے گا۔




