مسجد الحرام میں حجرِ اسماعیل (حطیم) میں داخلے کے لیے شیڈول کا اعلان

کے این واصف
مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل اتھارٹی نے حجرِ اسماعیل (حطیم) میں داخلے کے لیے شیڈول کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ نیم دائری شکل کا حطیم میں کچھ عرصہ قبل داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق یہ اقدام مسجد الحرام کے اندر موومنٹ کو منظم کرنے اور زائرین کی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
اتھارٹی نے بیان میں کہا خواتین روزانہ صبح چھ سے نو بجے تک حجر اسماعیل میں داخل ہو سکتی ہیں جبکہ مردوں کے لیے داخلے کا وقت رات دس سے ایک بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا اس اقدام کا مقصد عبادت میں آسانی فراہم کرنا، موومنٹ کو ہموار بنانا اور مسجد الحرام میں آنے والے زائرین کے تجربے کو مزید بہتر بنانا ہے۔
“حجرِ اسماعیل” خانہ کعبہ کی شمالی سمت میں واقع ہے جسے “الحطیم” بھی کہتے ہیں۔ مسجد الحرام کے اندر یہ مقام بہت ہی خاص حیثیت رکھتا ہے۔
“حجرِ اسماعیل” کعبے کی تعمیر کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل نے خانۂ خدا کی بنیاد رکھی تھی تو “حجرِ اسماعیل” کو بیت العتیق کی اصل عمارت میں شامل کیا تھا۔
لیکن جب قبیلۂ قریش نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلابی مشن سے قبل کعبے کو دوبارہ تعمیر کیا تو انھوں نے مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے”حجرِ اسماعیل” کو کعبے کا حصہ نہ بنایا۔ چنانچہ کعبہ کی عمارت اس شکل کی بن گئی جیسی یہ ہمیں آج نظر آتی ہے۔
اس دن سے آج تک “حجر”، تعمیراتی پہلو کی ایک مخصوص صورت ہے جو کعبہ کے شمالی جانب ایک نیم دائرہ کی صورت میں نظر آتی ہے۔ اس کی دیواریں 1.3 میٹر بلند اور 30 سینٹی میٹر چوڑی ہیں۔
محرابی پتھر، دیوارِ کعبہ سے اکیس میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس پتھر کے آخری حصے اور دیوارِ کعبہ کے درمیان خالی جگہ ہے۔



