واٹس ایپ گروپ سے نکالنے پر خاتون پولیس اسٹیشن پہنچ گئی۔ حیدرآباد میں عجیب وغریب واقعہ

حیدرآباد: مقامی افراد کے ایک واٹس ایپ گروپ سے نکالے جانے کے بعد ایک خاتون نے مقامی پولیس سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں دوبارہ گروپ میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا ہے۔
خاتون نے بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ انہوں نے بتایا کہ روڈ نمبر 12 پر واقع این بی ٹی نگر کے مقامی افراد پر مشتمل واٹس ایپ گروپ میں ایک تنازع پیدا ہوگیا تھا۔ یہ گروپ مقامی بستی کے مسائل پر گفتگو کے لیے
بنایا گیا تھا جہاں سیاسی آراء اور سیاسی نوعیت کے پیغامات شیئر کرنے پر سخت پابندی تھی۔ اس کے باوجود جب ایسے پیغامات کا سلسلہ جاری رہا تو گروپ ایڈمن نے اراکین کو وارننگ بھی دی۔پولیس کے مطابق شکایت کنندہ خاتون
نے وارننگ کے باوجود سیاسی نوعیت کے پیغامات شیئر کرنا جاری رکھاجس پر گروپ ایڈمن نے انہیں واٹس ایپ گروپ سے نکال دیا۔اس فیصلے کو قبول نہ کرتے ہوئے خاتون پولیس اسٹیشن پہنچ گئیں اور مؤقف اختیار کیا کہ گروپ میں دوبارہ
شامل کیے جانے کی متعدد درخواستیں مسترد کیے جانے کے باعث انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔معاملہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب پولیس اسٹیشن طلب کیے جانے کے باوجود گروپ ایڈمن نے خاتون کو دوبارہ
گروپ میں شامل کرنے سے انکار کر دیا۔ ایڈمن کا کہنا تھا کہ انہیں کسی بھی صورت دوبارہ گروپ کا رکن نہیں بنایا جائے گا۔



