نیشنل

جج تبسم خان کے حق میں سپریم کورٹ وکلاء متحد – دھمکیوں کی سخت مذمت ؛ خاتون جج کو سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ

جج کو دھمکیاں دینا عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے : سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن

 

سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن نے مدھیہ پردیش کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج تبسم خان کو ان کے عدالتی فرائض کی انجام دہی کے بعد دی جانے والی دھمکیوں اور سوشل میڈیا پر چلائی گئی منظم مہم کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

 

ایسوسی ایشن کی اعزازی سیکریٹری یوگندھرا پوار جھا کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے کا درست طریقہ اپیلی عدالتوں سے رجوع کرنا ہے، نہ کہ ججوں کو دھمکیاں دینا، انہیں بدنام کرنا یا ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانا۔ اس طرح کے اقدامات عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کی بنیادوں کو کمزور کرتے ہیں۔

 

بیان میں کہا گیا کہ اگر جج قانون کے مطابق فیصلے دینے پر ذاتی نتائج سے خوفزدہ ہونے لگیں تو اس کے سنگین اثرات ضلعی عدالتوں کی آزادی اور ان کے مؤثر کام کاج پر پڑ سکتے ہیں۔

 

ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ ضلعی عدلیہ ملک کے نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جہاں عدالتی افسران کو اکثر حساس اور پیچیدہ مقدمات کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ انہیں بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دینے کا یقین حاصل ہو اور ادارہ جاتی سطح پر ان کی آزادی کا مکمل تحفظ کیا جائے۔

 

آخر میں سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن نے جج تبسم خان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی سلامتی کو یقینی بنانے اور تمام عدالتی افسران کی آزادی اور وقار کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔

 

واضح رہے کہ  گزشتہ ماہ  مدھیہ پردیش کے ضلع نرمداپورم کی  عدالت کی خاتونِ جج تبسم خان نے 14 افراد کو ایک مسلم شخص کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ واقعہ اگست 2022 میں مبینہ گائے اسمگلنگ کے الزام کے تحت پیش آیا تھا۔

 

 

جج تبسم خان نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام 14 ملزمین کو مجرم قرار دیا۔ یہ سزا مہاراشٹر کے ضلع امراؤتی سے تعلق رکھنے والے نذیر احمد کے 3 اگست 2022 کے قتل کے مقدمے میں سنائی گئی تھی اس فیصلہ کے بعد سے کن تبسم خان کو مختلف طریقہ سے دھمکی مل رہی ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button