وزیراعظم مودی کے خلاف مبینہ قابلِ اعتراض ٹویٹ – حیدرآباد کے نوجوان محی الدین صدیقی کو ساڑھے تین ماہ بعد ضمانت

حیدراباد کے حلقہ ملک پیٹ کے نوجوان حسن محی الدین صدیقی جو فری لانس صحافی بتائے گئے ہیں کو وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ قابل اعتراض ٹویٹ ری ٹویٹ کرنے کے معاملے میں گرفتاری کے تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد مجلس کی قانونی کوششوں سے ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
پنجاب پولیس نے 25 اپریل کو حیدرآباد سے حسن محی الدین صدیقی کو گرفتار کرکے چندی گڑھ منتقل کیا تھا۔ ان کے خلاف بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق انہوں نے ماہر تعلیم مدھو کشور کی ایک ویڈیو ری ٹویٹ کی تھی، جس میں وزیراعظم مودی سے متعلق متنازع دعوے کئے گئے تھے۔
صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کی ہدایت پر مجلس کے ملک پیٹ رکن اسمبلی احمد بن عبداللہ بلعلہ کی رہنمائی میں مجلس کی لیگل ٹیم نے صدیقی کی رہائی کے لیے قانونی کارروائی شروع کی۔ ضمانت کی درخواستیں دو مرتبہ مسترد ہونے کے بعد بالآخر 10 اگست کو عدالت نے انہیں ضمانت دے دی۔
حسن محی الدین صدیقی کے بھائی اسرار صدیقی اور اہلِ خانہ نے رہائی کے لیے تعاون پر مجلس کی قیادت اور قانونی ٹیم سے اظہارِ تشکر کیا۔




