ایجوکیشن

ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کی 36ویں فاؤنڈیشن ڈے تقاریب کا آغاز۔35 سالہ سفر پر خیرخواہوں طلبہ اور والدین کا شکریہ، مستقبل کے لیے عزائم کا اظہار

حیدرآباد، 10 اگست: ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کی 36ویں فاؤنڈیشن ڈے کی تقریبات کا آغاز دانشوروں، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور دیگر ممتاز شخصیات کے ساتھ ادارہ کے کارپوریٹ آفس میں منعقدہ خصوصی نشست سے ہوا۔

 

اس میٹنگ کا مقصد ایم ایس کے 35 سالہ سفر کا جائزہ لینے، ادارے کی کامیابیوں اور خدمات پر تبادلۂ خیال کرنے، موجودہ تعلیمی و سماجی چیلنجز کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے ماہرین اور دانشوروں کی آرا، رہنمائی اور تجاویز حاصل کرنا تھا۔ اس موقع پر شرکاء نے ایم ایس کی خدمات کا سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا ۔

 

ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کا قیام 10 اگسٹ 1991 کو عمل میں لایا گیا تھا۔گزشتہ 35 برسوں میں ایم ایس نے تعلیم کے ساتھ ساتھ حفظِ قرآن، یتیم و مستحق بچوں، نابینا افراد، اساتذہ کی فلاح، انٹرپرینیورشپ اور کمیونٹی کی ترقی کے مختلف شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

 

اس موقع پر بانی و چیئرمین محمد لطیف خان نے ایم ایس کے 35 سالہ سفر، ابتدائی مشکلات، کامیابیوں، محرومیوں سے حاصل ہونے والے اسباق اور مستقبل کے عزائم پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس کی ترقی متعدد شخصیات کی براہِ راست و بالواسطہ رہنمائی، حوصلہ افزائی اور تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اپنے استادخواجہ فرید شرفی ، تعمیر ملت اور اس کے بانی سید خلیل اللہ حسینیؒ اور ظہیرالدین علی خان صاحب کی خدمات کو خصوصی طور پر یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 1998 میں اخبارِ سیاست کے تعاون سے دسویں جماعت کے سوالیہ پرچوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے۔

 

محمد لطیف خان نے کہا کہ 36ویں فاؤنڈیشن ڈے کا مقصد ماضی کو یاد کرنے کے ساتھ مستقبل کے لیے نئے عزم کا اظہار بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال ایم ایس کے 10 طلبہ مرکزی سول سروسز میں منتخب ہوئے، جبکہ انٹرمیڈیٹ میں ریاستی سطح پر اول مقام، دسویں جماعت اور انٹرمیڈیٹ میں نمایاں نتائج حاصل ہوئے۔ انہوں نے ایڈونچر پارک کے ذریعے نوجوانوں میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے اور انہیں روزگار پیدا کرنے والا بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

 

اس موقع پر ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر اے کے خان نے ایم ایس کے سفر کو سراہتے ہوئے سول سروسز کے ساتھ قانون، کامرس اور انٹرپرینیورشپ میں نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے اور اے آئی سمیت بدلتے عالمی رجحانات پر توجہ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے ایم ایس کو مستقبل میں متنوع شعبوں میں نوجوانوں کی رہنمائی اور ترقی کے مزید مواقع پیدا کرنے کی تجویز بھی دی۔

 

ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر راجن حبیب خواجہ نے ایم ایس کو خود احتساب، تجزیاتی سوچ اور بدلتے حالات سے ہم آہنگ رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتے عالمی رجحانات پر توجہ دینے پر زور دیا۔ ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر اے کے خان نے سول سروسز کے ساتھ قانون، کامرس اور انٹرپرینیورشپ کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنے کی تجویز پیش کی۔

 

معراج فہیم، سی ای او تلنگانہ انوویشن سیل نے ایم ایس کی معاونت سے قائم ایڈونچر پارک کو بھارت کا پہلا طلبہ مرکوز انکیوبیٹر قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 327 اسٹارٹ اپس کو انکیوبیٹ کیا گیا، جن میں 720 سے زائد مسلم فاؤنڈرز شامل ہیں اور تقریباً 300 روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

 

مولانا غیاث احمد رشادی نے یتیم اور علماء کے بچوں کے لیے رعایت کو ناقابلِ فراموش خدمت قرار دیتے ہوئے ایم ایس کی نسل سازی کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹر محمد شعیب احمد خان نے حفاظ، یتیم بچوں اور اساتذہ کے لیے خدمات، خصوصاً اساتذہ کو سفرِ عمرہ کا موقع فراہم کرنے کو ادارے کی منفرد خصوصیت قرار دیا۔

 

سید ایوب حسینی، صدر آل انڈیا تعمیر ملت نے محمد لطیف خان کی عاجزی کو سراہا، جبکہ محمد مصطفیٰ علی سروری، اسوسی ایٹ پروفیسر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے مسلم کمیونٹی کی ترقی کے لیے ایم ایس کے تعاون کو سراہتے ہوئے مزید آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

اجلاس کی کارروائی ایم ایس کے منیجنگ ڈائریکٹر انور احمد نے چلائی۔ وائس چیئرپرسن نزہت خان، منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر معظم حسین اور بورڈ کے دیگر اراکین بھی موجود تھے۔

 

اس موقع پر لارڈز کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے جوائنٹ سکریٹری سید تنویر احمد نے ایم ایس کے بانی و چیئرمین محمد لطیف خان اور منیجنگ ڈائریکٹرز انور احمد اور ڈاکٹر معظم حسین کی گلپوشی کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button