دارالعلوم سعیدیہ مالاپلی نظام آباد میں سیرت طیبہ کا پیغام انسانیت

موجودہ نفرت بھرے ماحول میں سیرتِ نبوی ﷺ اور تعلیماتِ نبوی کو عام کرنا ہماری ذمہ داری سیرت کوئز بھی منعقد کےء جائیں گے ۔۔
مولانا عبد القیوم شاکر القاسمی امام وخطیب مسجد اسلامیہ جنرل سکریٹری جمعیتہ دینی تعلیمی بورڈ وخادم دارالعلوم سعیدیہ مالاپلی نظام آباد
دارالعلوم سعیدیہ مالاپلی نظام آباد میں سیرت طیبہ کا پیغام انسانیت کے نام ۔اس اہم موضوع پر نوجوان نوفارغ علماء کرام ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں بحیثیت مہمان شہر حیدرآباد سے مفتی ابرار الحق شاکر نے اپنے وفد کے ہمراہ شرکت کی اس نشست میں اس بات پر تبادلہء خیال ہوا کہ
آج کا معاشرہ مختلف نوعیت کی نفرت، تعصب، عدم برداشت اور باہمی دوریوں کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں سیرتِ طیبہ ﷺ کا پیغام انسانیت کے لیے نہایت مؤثر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں محبت، رحمت، عدل، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔
قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کو ’’رحمۃً للعالمین‘‘ قرار دیا۔ آپ ﷺ نے مخالفین کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت فرمائی اور معاشرے میں اخوت و مساوات کو فروغ دیا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ نفرت کا جواب نفرت نہیں بلکہ حکمت، اخلاق اور محبت سے دینا چاہیے۔
آج ضرورت ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف جلسوں اور تقریروں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ گھروں، مدارس، اسکولوں، کالجوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نئی نسل تک اس کے حقیقی پیغام کو پہنچایا جائے۔ بالخصوص نوجوانوں کو آپ ﷺ کے اخلاق، معاملات، برداشت، عدل اور انسانیت سے محبت کے واقعات سے روشناس کرایا جائے۔
اگر ہم سیرتِ نبوی ﷺ کو سمجھ کر اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو بہت سی نفرتیں محبت میں، اختلافات اخوت میں اور دوریاں قربت میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ آج کے پُرآشوب ماحول میں سیرتِ رسول ﷺ ہی وہ روشن راستہ ہے جو انسانیت کو امن، محبت اور باہمی احترام کی طرف لے جا سکتا ہے اس حوالہ سے آیندہ ماہ میں عام فہم اور آسان کتابچہ مرتبہ مفتی ابرار الحق شاکر قاسمی صاحب مختلف زبانوں میں شائع کرکے ان شاءاللہ برادران وطن میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ ہم اپنی اس عظیم اور دینی ذمہ داری سے سبکدوش ہو سکیں الحمدللہ شہر نظام آباد کے نوفارغ علماء کرام نے عزم کیا کہ ضرور اس مہم میں اپنی حصہ داری ادا کریں گے
مولانا شیخ مبین حافظ ابراہیم حافظ شاہد مولانا شیخ زبیر مولانا محمد یاسر مولانا حفیظ علی قمر حافظ حنیف حافظ راشد حافظ جنید مولانا محسن نیازی مولانا مصطفیٰ کمال حافظ عبد الملک جواد مفتی عبد المبین قاسمی مفتی عبد الماجد قاسمی حافظ مصطفیٰ حافظ سید احمد عامر محمد فیصل کارپوریٹر محمد انصار ایس آئی او حافظ زبیر مولانا شیخ ندیم مولانا ضمیر مفتی مبصر مفتی عبد الرحمٰن ودیگر علماء حفاظ موجود تھے



