جرائم و حادثات

موبائل چوری کی سزا سے بچنے کیلئے امام کا قتل، 72 گھنٹے میں نابالغ قاتل بے نقاب – فری فائر گیم سے سیکھا تھا قتل کا طریقہ

بہار کے گوپال گنج پولیس نے اوچکا گاؤں کے ارنا بازار  میں واقع جامع مسجد کے امام شیخ شفیق خان کے قتل کا 72 گھنٹوں کے اندر انکشاف کردیا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ ونے تیواری نے چہارشنبہ کی رات دیر گئے جائے وقوعہ پر پہنچ کر معاملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

 

پولیس کے مطابق ایک نابالغ نے موبائل چوری کے کیس میں پولیس اور پنچایت کی جانب سے ملنے والی سزا سے بچنے کے لئے امام کو قتل کیا تھا۔ پوچھ تاچھ کے دوران نابالغ نے واردات میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

 

بتایا گیا کہ چند روز قبل امام نے ملزم اور اس کے والد کو نشے کی حالت میں مسجد آنے اور نماز نہ پڑھنے پر تنبیہ کی تھی۔ اس کے بعد ملزم نے امام کا ایک موبائل فون چوری کرلیا۔ چوری پکڑے جانے اور بدنامی کے خوف سے اس نے امام کے قتل کی سازش رچی۔

 

پولیس کے مطابق ملزم نے فری فائر گیم سے قتل کا طریقہ سیکھا اور 16 اگست کی رات سوئے ہوئے امام کا گلا کاٹ کر انہیں قتل کردیا۔ واردات کے بعد اس نے امام کا دوسرا موبائل فون بھی چوری کرلیا۔ ملزم نے خون آلود کپڑے بھی جلا دیئے۔

 

پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار، مقتول کا موبائل فون، ملزم کا موبائل فون اور سم، خون آلود جلے ہوئے کپڑے اور 1180 روپے نقد برآمد کرلئے ہیں۔ ایف ایس ایل اور ٹیکنیکل سیل کی مدد سے سائنسی طریقے سے تفتیش کرتے ہوئے پولیس ملزم تک پہنچی۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق نابالغ نے امام کا موبائل فون چوری کیا تھا، تاہم گاؤں کے لوگوں نے اس سے موبائل واپس لے کر امام کو دے دیا تھا۔ اس دوران امام نے کہا تھا کہ وہ موبائل چوری کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کرائیں گے۔ اسی خوف اور غصے میں نابالغ نے امام کو قتل کردیا۔

 

واردات اتوار کی رات پیش آئی۔ گرمی اور بارش کے باعث امام شیخ شفیق خان کھانا کھانے کے بعد مسجد کے ٹین شیڈ والے برآمدے میں چارپائی پر سو رہے تھے۔ پولیس کے مطابق رات تقریباً ایک بجے نابالغ مسجد کی چار دیواری پھاند کر اندر داخل ہوا اور تیز دھار قینچی سے سوئے ہوئے امام پر حملہ کردیا۔

 

پوچھ تاچھ میں انکشاف ہوا کہ نابالغ نے سب سے پہلے امام کی گردن پر دو مرتبہ وار کئے تاکہ وہ شور نہ مچا سکیں۔ اس کے بعد پیٹ اور کمر پر تقریباً 10 وار کئے گئے، جس کے نتیجے میں امام کی موت ہوگئی۔

 

پولیس کے مطابق قتل کے بعد نابالغ نے قینچی دھو کر خون کے نشانات مٹانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد مسجد میں پڑھی جانے والی کتاب کے کئی صفحات پھاڑ کر گاؤں سے باہر چنّور کے علاقے میں لے گیا۔ وہاں کاغذ جلاکر اپنے پہنے ہوئے کپڑوں کو بھی جلانے کی کوشش کی اور پھر گھر واپس جاکر سو گیا۔

 

پیر کی صبح مسجد سے اذان نہ ہونے پر مقامی افراد وہاں پہنچے، جہاں امام کی نعش برآمد ہوئی۔ اس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔ پولیس نے قریبی کلینکس میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور ایک ہفتہ قبل پیش آنے والی موبائل چوری کے واقعہ کو تفتیش کی بنیاد بنایا۔ اس دوران مسجد کے قریب رہنے والے نابالغ کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی، جس میں قتل کا راز کھل گیا۔

 

ایس پی ونے تیواری نے بتایا کہ نابالغ کی نشاندہی پر واردات کے وقت پہنے گئے ادھے جلے کپڑے اور قتل میں استعمال کی گئی قینچی برآمد کرلی گئی ہے۔ پولیس نے نابالغ کو تحویل میں لے کر مزید کارروائی شروع کردی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button