نیشنل

ڈاکٹروں کی سوشل میڈیا تشہیر پر شکنجہ، انسٹاگرام سے اسپانسرڈ پوسٹس تک نئی پابندیاں نافذ -مریضوں کو لبھانے والے ڈاکٹروں کی اب خیر نہیں –

نئی دہلی، ,8 اکتوبر: ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے لیے اب مریضوں کو راغب کرنے کی خاطر سوشل میڈیا کا من مانی استعمال آسان نہیں ہوگا۔ نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کی نئی ہدایات کے تحت انسٹاگرام، انفلوئنسر مارکیٹنگ، اسپانسرڈ پوسٹس اور مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تشہیری مواد کو بھی طبی اشتہارات کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔

 

این ایم سی نے 6 اکتوبر کو اسپتالوں، طبی اداروں اور رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز کے لیے اخلاقی اشتہارات اور عوام تک طبی معلومات پہنچانے سے متعلق نئی ہدایات جاری کی ہیں، جو فوری طور پر نافذ ہوگئی ہیں۔

 

نئے ضوابط کے تحت ڈاکٹروں کو اپنی طبی خدمات کی تشہیر کے لیے مریضوں کی رائے، پیسے دے کر لکھوائے گئے یا فرضی ریویوز، گمراہ کن دعوے، علاج کے یقینی نتائج کی ضمانت اور مریضوں کی ذاتی کہانیاں استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

 

این ایم سی نے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا ہے جب ڈاکٹر صحت سے متعلق آگاہی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی برانڈنگ اور مریضوں کو راغب کرنے کے لیے انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بڑے پیمانے پر استعمال کررہے ہیں۔

 

نئے ضوابط میں عوامی صحت سے متعلق معلومات اور تجارتی تشہیر کے درمیان واضح حد مقرر کی گئی ہے۔ طبی نگراں ادارے نے واضح کیا کہ ڈاکٹر ثبوت پیش کیے بغیر اپنے علاج، سہولیات یا مہارت کو دوسروں سے بہتر قرار نہیں دے سکتے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button