ڈاکٹرس نے کٹا ہوا ہاتھ پھر سے جوڑ دیا۔ حیدرآباد کے ایک ہاسپٹل میں کامیاب سرجری
حیدرآباد: ڈرلنگ مشین سے کام کرتے ہوئے پیش آئے حادثے میں حیدرآباد کے ایک نوجوان کا ہاتھ کٹ کر الگ ہوگیا تھا جسے حیدرآباد کے کئیر ہاسپٹل ہائی ٹیک سٹی کے ڈاکٹروں نے کامیابی سے دوبارہ جوڑ دیا۔
حادثے کے ایک گھنٹے کے اندر متاثرہ نوجوان کو اسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹروں نے تقریباً 10 گھنٹے تک سرجری کی۔ڈاکٹروں نے منگل کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ فی الحال بازو میں خون کی روانی معمول کے مطابق ہے اور انگلیوں میں حرکت اور لمس کا احساس بھی واپس آ رہا ہے۔
اس پیچیدہ آپریشن میں آرتھوپیڈکس، پلاسٹک اینڈ ریکنسٹرکٹیو سرجری، جنرل سرجری اور اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹروں نے حصہ لیا۔سب سے پہلے متاثرہ ٹشوس کو صاف کیا گیا اور بازو کی دونوں ہڈیوں کو پلیٹس کی مدد سے مستحکم کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ مکمل طور پر کٹے ہوئے عضو کو دوبارہ جوڑنا انتہائی پیچیدہ ریکنسٹرکٹیو سرجری میں شامل ہے۔
حادثے کی شدت کے ساتھ ساتھ مریض کو کتنی جلدی خصوصی ٹراما سینٹر پہنچایا گیا یہ بھی علاج کے نتیجے پر اثر انداز ہوتا ہے۔کئیر اسپتال ہائی ٹیک سٹی کی سینئر کنسلٹنٹ اور پلاسٹک سرجن ڈاکٹر دیویا سائی نرسنگم نے بتایا کہ مکمل طور پر کٹے ہوئے عضو کو زندہ حالت میں برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ تاہم مختلف شعبوں کے ڈاکٹروں کی مشترکہ کوششوں سے یہ سرجری کامیاب ہوئی۔
ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ حادثے میں اگر ہاتھ یا جسم کا کوئی دوسرا عضو مکمل طور پر کٹ جائے تو اسے بھی مریض کے ساتھ جتنی جلدی ممکن ہو اسپتال پہنچایا جائے۔کٹے ہوئے عضو کو ایک صاف اور سیل شدہ پلاسٹک بیگ میں محفوظ کرکے ٹھنڈی جگہ پر رکھنا چاہیے۔
تاہم ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ کٹے ہوئے عضو کو براہِ راست برف کے ٹکڑوں یا آئس کیوبز پر نہیں رکھنا چاہیے۔



