ہندوستان میں مردم شماری کے کام کا آغاز شہید ٹیپو سلطان نے ہی کیا تھا -ملک کے لیے عظیم شہادت ناقابل فراموش


ہندوستان میں مردم شماری کے کام کا آغاز شہید ٹیپو سلطان نےہی کیا تھا -ملک کے لیے عظیم شہادت ناقابل فراموش
نئی نسل کو کارناموں سے واقف کروانے کی ضرورت -مولانا نوشاد عالم
پروفیسروجیولتا، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز اور دوسروں کا خطاب،ادیبوں اور دیگر معززین کی کثیر تعداد شریک

حیدراباد 8-مئی( پریس نوٹ )مولانا محمد نوشاد عالم صدیقی صدر آل انڈیا علماء بورڈ دہلی نے کہا کہ ممتاز مجاہد آزادی ہندوستان شیر سلطان ٹیپو سلطان سچے مجاہد آزادی تھے جنہوں نے اپنے ملک سے وفاداری کی خاطر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو حضرت ٹیپو سلطان شہید کی زندگی اور ان کے کارناموں سے واقف کروایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا پلس آڈیٹوریم میں منعقدہ یادگار لیکچر” جنگ ازادی میں مسلمانوں کا حصہ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس یادگاری لیکچر میں شہر حیدراباد کے علاوہ مختلف اضلاع اور پڑوسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز اہل فکر و دانش محفقین، ادیبوں اور شعراء کی کثیر تعداد نے شرکت کی خواتین بھی قابل لحاظ تعداد میں موجود تھیں
مولانا محمد نوشاد عالم صدیقی نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو معاشرتی نظام دیا تھا اس پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے ہم نے تعلیمات نبوی صلعم کو چھوڑ دیا جس کی وجہ سے ہم پر ظالم و جابر حکمران مسلط ہو گئے ہیں انہوں نے آپس میں اتحاد محبت اخوت اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے پر زور دیا انہوں نے موجودہ حالات پر اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ کئی گھروں میں انتشاری ماحول پایا جاتا ہے جبکہ ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم گھروں محبت کے ماحول کو پروان چڑھائیں اور سماج میں سچے اور ایماندار لوگوں کے ساتھ رہیں اگر ہم سچے اور ایماندار بن جاتے ہیں تو پھر اللہ تعالی کی مزید مدد ہمارے شامل حال ہوگی.
پروفیسر ویمنس یونیورسٹی و پرنسپل کالج آف سائنس عثمانیہ یونیورسٹی نے اپنے پر اثر خطاب میں کہا کہ ٹیپو سلطان نے ہندوستان کی سالمیت کے لیے اپنی جان دیدی انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک ہندوستان سبھی کا ہے ہندوستان کی آزادی کے لیے ہندو اور مسلمان دونوں ہی نے بھرپور حصہ لیا انہوں نے مشہور مصرعہ بھی سنایا کہ سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے محترمہ وجیولتا نے مزید کہا کہ انقلاب زندہ باد کا نعرہ بھی اردو میں تھا اور یہ نعرہ مسلمانوں ہی کا ایجاد کرتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ہندوستان سب کا ہے اور سب کا رہے گا
ہمیں آپس میں ہندو مسلم اتحاد کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط و مستحکم کرنا ہے ہمارا ملک ہندوستان رواداری پر مبنی ملک ہے انہوں نے پروفیسر نسیم سلطانہ کہ ادبی اور بالخصوص اردو خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ویمنس کالج کوٹھی میں مسلم لڑکیاں بہت زیادہ تعداد میں تعلیم حاصل کرتی ہیں اسی لیے اس یونیورسٹی میں اردو کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے اس سلسلے میں نسیم سلطانہ کی کوششیں و کاوشیں قابل قدر و قابل ستائش ہیں. جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم علماء بورڈ مولانا بنائی حسنی دہلی نے کہا کہ دنیا کا سب سے پہلا راکٹ مین ٹیپوسلطان ہے سائنسی ایجادات میں بھی ٹیپو سلطان اولین درجے کے حامل ہیں ٹیپو سلطان نے ہی زمینداری نظام کوختم کیا اور ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتحاد کے لیے جو عظیم تر کوششیں کی تھیں وہ آج بھی سنہرے الفاظ میں لکھے جانے کے قابل ہیں انگریزوں نے پوری طاقت لگا کر ٹیپوسلطان کو شہید کیا کیونکہ انگریز ٹیپو سلطان کو ہی اپنے لیے زیادہ خطرہ کی گھنٹی محسوس کرتے تھے ٹیپو سلطان نے ہندوستان کی سالمیت اور ازادی کے لیے اپنی جان کی قربانی دے
دی ایڈیٹر گواہ ہفت روزہ ڈاکٹر فاضل حسین پرویز نے کہا کہ جس طرح ٹیپو سلطان نے ہندوستان کی حفاظت کے لیے اپنی جان کے قربانی دی اسی طرح نظام نواب میر عثمان علی خان نے بھی ملک اور قوم کی تعمیر کے لیے بے پناہ کام انجام دیے ان کے دور حکومت میں ملک امن و امان کا گہوارہ تھا
انہوں نے کہا کہ میرا دعوی ہے کہ اگر کوئی بھی ہندو ،ویدوں کا سچے دل سے مطالعہ کر لے تو اسے موجودہ دور میں پھیلائی گئی مسلمانوں سے نفرت ختم ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ اج بھی مٹھی بھر لوگ جن کے بچے امریکہ اور دیگر ملکوں میں مقیم ہیں وہ یہاں مذہب کے نام پر ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑاتے ہیں یہ مناسب بات نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان شہید کا اخلاص اور رواداری بہت مشہور تھا ممتاز و سینیئر صحافی جناب محمد ریاض احمد نے انکشاف کیا کہ اس وقت ہندوستان بھر میں مردم شماری کا جو کام چل رہا ہے
اس کام کے آغاز کا سہرا ٹیپو سلطان کے ہی سر جاتا ہے ٹیپو سلطان کی مادری زبان اردو تھی اور اردو صحافت کے اغاز کا سہرا بھی ان ہی کے سر ہے اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے جب حضرت ٹیپو سلطان کی شہادت ہوئی تب انگریزوں نے کہا تھا کہ اب ہمیں ہندوستان پر قبضہ کرنے کا موقع مل گیا ہے مولانا ڈاکٹر شجاع الدین افتخاری حقانی پاشا نے شادی سے قبل نوجوانوں کے لیے شروع کیے گئے نکاح کورس کے کے اس موقع پراغاز کیے جانے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نکاح کی تقاریب ہو رہی ہیں لیکن لڑکے اور لڑکی میں ذہنی ہم اہنگی نہ ہونے کے باعث یہ رشتے ناپائیدار ثابت ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ماں باپ بچوں کو تعلیم سے زیور سے تو آراستہ کر رہے ہیں لیکن تربیت بالکل نہیں ہو رہی ہے اور تربیت نہ ہونے کی وجہ سے خاندان بکھر رہے ہیں , اس کورس کے لیے ترتیب دیے گئے نصاب کی بھی سراہنا کی آخر میں حضرت ٹیپو سلطان کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے علامہ اقبال کا ایک شعر بھی سنایا پروفیسر نسیم سلطانہ نے پروفیسر ایم ویجولتاکی اردو دوستی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ویمنس یونیورسٹی میں اردو کے فررغ کے لیے ان کی کاوشیں قابل قدر اور قابل تحسین ہیں نواب میر عثمان علی خان پر پروفیسر میڈم نے کافی کام کیا ہے ان کی اردو دوست کی قابل رشک ہے
ڈاکٹر شعیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹیپو سلطان صرف ایک نام ہی نہیں بلکہ ایک معیار ہے انہوں نے حضرت ٹیپو سلطان شہید کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ تماشہ کرنے والوں کو نہیں بلکہ عمل کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے حضرت ٹیپو سلطان شہید نے اپنے عمل اور کردار سے ثابت کر دیا کہ ملکی آزادی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی مولانا مفتی سراج الہدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہید نے عزت کے ساتھ جینے کا ہنر بتایا بعض تنگ ذہن لوگ انہیں برا بھلا کہتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں نئی نسل کو حضرت ٹیپو سلطان شہید کی زندگی اور ان کے کارناموں سے واقف کروانے کی ضرورت ہے نواب رونق یار جنگ نے ٹیپو سلطان شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام وقت کی ضرورت ہے انہوں نے نواب میر عثمان علی خان کو بھی بھرپور خراج خدمت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آصف جاہی خاندان اپنی رواداری کے لیے کافی مشہور ہے انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کی عزت کی سختی سے تعلیم دی ہے
خواتین کو مساویانا حقوق حاصل ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی توقیر پر کافی زور دیا ہے انہوں نے اس طرح کے ائندہ پروگراموں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اپنی طرف سے بھرپور تعاون کا بھی پیشکش کیا مولانا ڈاکٹر مہمین قادری اور دوسروں نے بھی حضرت ٹیپو سلطان شہید کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا اس موقع پر معزز مہمانوں اور مقررین کرام کی شال پوشی کی گئی اور یادگار تحائف بھی دیے گئے ممتاز و معروف سینیئر شاعر جناب رؤف خیر نے ٹیپو سلطان شہید کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا اور ٹیپو سلطان پر فارسی میں شاندار نظم سنائی اور اس کا ترجمہ بھی پیش کیا جسے سامعین نے بے حد پسند کیا
ڈاکٹر ثمینہ بیگم کے شکریہ پر اس باوقار اور پراثر تہذیبی و ادبی تقریب کا اختتام عمل میں آیا ڈاکٹر غوثیہ بیگم ڈاکٹر احتشام الحسن نے انتظامات میں حصہ لیا اس تقریب میں ایوارڈ یافتگان کے علاوہ مولانا نوشاد احمد صدر نشین علماء بورڈ مرہٹواڑہ،مولانا ڈاکٹر محمد ہلال اعظمی ،
سید طاہر حسین ,بانی و مینیجنگ ایڈیٹر ویل کیر انڈیا سوشل ویلفر فاؤنڈیشن ,
ڈاکٹر ناظم علی ناظم سابق پرنسپل موڑتاڑ کالج نظام آباد، جناب محمد حسام الدین ریاض ،جناب خواجہ گیسو دراز سینیئر صحافی گلبرگہ ،جناب سید ظہور الدین چیئرمین سکندرآباد کوآپریٹو بینک ،جناب سلیم احمد فاروقی بانی اردو اکیڈمی جدہ،جناب محمد مظفر احمد دمام ،جناب محمد حسین قادری عارف دباالفجیرہ متحدہ عرب امارات، پرویز حسنین جگنو ڈاکٹر فہمیدہ بیگم اور دیگر معززین نے شرکت کی



