ایران کی امن پیشکش ٹرمپ نے ٹھکرا دی – امریکہ میں جنگی حملے کی تیاریاں پھر زیرِ غور

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ امن معاہدے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی تجاویز مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں، تاہم انہوں نے ان تجاویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے ایک اہم رہنما نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا تھا۔ اتوار کو یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شاید جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو جائے گی، لیکن ٹرمپ نے ایران کی پیشکشوں کو مسترد کرتے ہوئے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’’میں نے ایرانی نمائندوں کی بھیجی گئی تجاویز ابھی پڑھی ہیں، وہ مجھے پسند نہیں آئیں اور نہ ہی قابل قبول ہیں۔‘‘ انہوں نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران گزشتہ 50 برسوں سے امریکہ کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے، لیکن اب ’’ان کے ہنسنے کے دن ختم ہو چکے ہیں‘‘۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کا خط درست نہیں تھا اور اس کا جواب بھی مایوس کن ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے مختلف ممالک کو دھمکاتا اور دباؤ میں لانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ادھر ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراھم نے کہا ہے کہ اگر ایران امریکی تجاویز کو مسترد کرتا ہے تو ٹرمپ کو فوجی کارروائی پر غور کرنا چاہیے۔ تاہم انہوں نے اس مسئلے کے سفارتی حل کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا بھی۔
لِنڈسے گراہم نے الزام عائد کیا کہ ایران بین الاقوامی شپنگ پر مسلسل حملے کر رہا ہے اور مغربی ایشیا میں امریکہ کے حامی ممالک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے رویے کے بعد امریکہ کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑ سکتی ہے۔




