وندے ماترم گانے سے انکار 2 مسلم کونسلرس کے خلاف کیس درج

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے اندور میں کانگریس کی 2 خاتون کونسلرس کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ قومی ترانمہ ’وندے ماترم‘ نہیں گانے کے سبب دونوں کے خلاف ایم جی روڈ تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔
دراصل میونسپل کارپوریشن بجٹ اجلاس کے دوران کانگریس کی کونسلر روبینہ اقبال خان اور فوضیہ شیخ علیم نے وندے ماترم گانے سے منع کر دیا تھاجس کے بعد کافی ہنگامہ دیکھنے کو ملا تھا۔ اب اس معاملے میں پولیس کارروائی شروع ہو گئی ہے۔موصولہ اطلاع کے مطابق بی جے پی کونسلروں نے ڈویژنل کمشنر اور ایم جی روڈ تھانہ میں درخواست
دے کر دونوں کانگریس کونسلروں پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس نے بی جے پی کونسلروں کی درخواست کی جانچ کے بعد ان کے بیانات درج کیے۔ کانگریس کی دونوں خاتون کانسلروں سے بھی تھانے میں پوچھ تاچھ ہوئی۔ پوری جانچ کے بعد دونوں کونسلروں پر لگے الزامات کو درست پاتے ہوئے دفعہ 1/196 کے تحت معاملہ درج کیا گیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں مسلم کونسلروں نے آئین میں موجود مذہبی آزادی کی گارنٹی کا حوالہ دیا، پھر بھی ان کے خلاف معاملہ درج کر لیا گیا۔ اس سے قبل ایوان میں بھی دونوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہنگامہ کے درمیان اسپیکر نے فوضیہ شیخ علیم کو ایوان سے باہر جانے کی ہدایت دے دی۔ اسپیکر نے کہا کہ وندے ماترم گیت کے 150 سال پورے ہو چکے ہیں
اور مرکزی حکومت نے گائیڈلائن جاری کیا ہے کہ اسے سبھی سرکاری دفاتر میں گایا جانا چاہیے۔ ایسے میں وندے ماترم گانے سے انکار کرنا درست نہیں ہے۔غور طلب ہے کہ کانگریس کونسلر فوضیہ شیخ اس وقت ایوان میں حاضر نہیں تھیں، جب وندے ماترم گایا جا رہا تھا اور وہ بعد میں ایوان کے اندر داخل ہوئیں۔ جب بی جے پی کونسلروں نے یہ معاملہ اٹھایا کہ
کانگریس کونسلر کو اس وقت حاضر رہنا چاہیے تھا، تو فوضیہ نے اپنی بات رکھی۔ انھوں نے بتایا کہ اس گیت میں کچھ ایسے الفاظ ہیں جنھیں وہ نہیں گا سکتیں۔ فوضیہ کی باتوں کو وندے ماترم کے تئیں نازیبا تبصرہ تصور کیا گیا اور ایوان کی کارروائی میں رخنہ اندازی کا الزام عائد کر
انھیں ایک دن کے لیے ایوان سے معطل کر دیا گیا تھا۔اس معاملہ میں فوضیہ شیخ کا واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ ان کا مذہب انھیں وندے ماترم گانے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ آئین انھیں مذہبی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے
اور کوئی بھی انھیں وندے ماترم گانے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔



