جرائم و حادثات

17 سالہ طالب علم سوریہ کے قتل کا مرکزی ملزم اسد پولیس انکاونٹر میں ہلاک، خاندان نے دیگر ملزمین کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا

غازی آباد: اتر پردیش کے غازی آباد کے کھوڑا کالونی علاقے میں 17 سالہ گیارہویں جماعت کے طالب علم سوریہ پرتاپ چوہان کے قتل کے معاملہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق جمعرات کو ہونے والے جھگڑے کے دوران چاقو کے وار سے زخمی ہونے والا سوریہ پرتاپ چوہان جمعہ کو دورانِ علاج دم توڑ گیا، جبکہ اس کیس کا مرکزی ملزم اسد اتوار کو پولیس انکاونٹر میں ہلاک ہو گیا۔

 

سوریہ پرتاپ چوہان کھوڑا کے نوینت وہار کالونی کے رہنے والا تھا۔ واقعہ کے بعد اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم شدید زخموں کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکا

 

غازی آباد سٹی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس جیسوال نے بتایا کہ اتوار کی صبح پولیس کو اسد کے کھوڑا علاقے میں موجود ہونے کی خفیہ اطلاع ملی تھی۔ اطلاع کی بنیاد پر پولیس ٹیم نے اسے گھیرنے اور گرفتار کرنے کی کوشش کی، لیکن اسد نے مبینہ طور پر پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی۔

 

پولیس کے مطابق پولیس ٹیم نے اپنی جان بچانے کے لئے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجہ میں اسد گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

 

پولیس نے بتایا کہ سوریہ پر حملہ کے بعد اسد فرار تھا اور اس کی گرفتاری کے لیے 50 ہزار روپے کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔

 

اسد کی پولیس انکاونٹر میں ہلاکت کے بعد مقتول سوریہ کے گھر والوں نے قتل میں ملوث دیگر تمام افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مقتول کی والدہ نے کہا کہ انہوں نے انکاونٹر میں ہلاک ہونے والے صرف ایک شخص کو دیکھا ہے، لیکن وہ اسد کی تصویر دیکھنا چاہتی ہیں تاکہ اس کی شناخت کی تصدیق ہو سکے۔

 

انہوں نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:”میں نے صرف ایک شخص کے انکاونٹر کی خبر دیکھی ہے، لیکن میں اسد کی تصویر دیکھنا چاہتی ہوں۔ تصویر دیکھنے کے بعد ہی مجھے اطمینان ہوگا۔ باقی ملزمین کے خلاف بھی اسی طرح کارروائی ہونی چاہئے۔ میرے بیٹے کے ساتھ سات افراد نے یہ ظلم کیا تھا۔ سب کے گھروں پر بلڈوزر چلنا چاہئے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بیٹے کے قتل میں متعدد افراد شامل تھے، اس لیے صرف ایک شخص کے خلاف کارروائی کافی نہیں ہے۔

 

چاقو زنی کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

یہ واقعہ 28 مئی کو کھوڑا کالونی کے شرما ڈیری علاقے کے قریب پیش آیا، جہاں ایک معمولی تنازعہ پر سوریہ پرتاپ چوہان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔مقتول کے بڑے بھائی یش چوہان کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، "میرا بھائی اپنے دوست آیوش اور وکی کے ساتھ موجود تھا۔ اسی دوران گلی میں ان کا سامنا اسد سے ہوا۔ اسد نے میرے بھائی سے جھگڑا شروع کر دیا اور گالی گلوچ کرنے لگا۔ پھر اس نے قتل کی نیت سے میرے بھائی کے پیٹ میں چار مرتبہ چاقو گھونپا۔ اطلاع ملتے ہی ہم موقع پر پہنچے اور اسے قریبی نجی اسپتال لے گئے، لیکن جمعہ کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔”

 

سوریہ کے دوست وکی نے پولیس کو بتایا کہ یہ تنازعہ بقرعید سے متعلق ایک سابقہ معاملے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس کے مطابق سوریہ، وکی اور آیوش ایک نوجوان کی دعوت پر ملزم کے علاقے میں گئے تھے۔ بعد میں جب سوریہ وہاں سے واپس جانے لگا تو اس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور پھر اس پر حملہ کر دیا گیا۔

 

موٹر سائیکل کے تنازعہ سے شروع ہوا جھگڑا

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم اور مقتول ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ دونوں کے درمیان موٹر سائیکل چلانے کے معاملے پر تنازعہ ہوا تھا، جو بعد میں شدید جھگڑے اور خونریز حملے میں تبدیل ہو گیا۔

 

متاثرہ خاندان کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ واقعہ کے فوراً بعد تین ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا تھا، جبکہ اسد ہفتہ کی رات تک مفرور رہا۔

 

سوریہ کو حملے کے بعد پہلے مقامی ہاسپٹل منتقل کیا گیا تھا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے نوئیڈا کے ایک نجی اسپتال ریفر کیا گیا، جہاں جمعہ کے روز اس کی موت واقع ہو گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button