نام میں ٹائپنگ کی غلطی پر غیر ملکی قرار دینا درست نہیں – سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ ؛ آسام کے 27 افراد کو بڑی راحت

سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ شہریت کی تصدیق کا عمل اور کسی شخص کو غیر ملکی قرار دینے کا طریقہ کار مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے آسام کے 27 افراد کو، جنہیں غیر ملکی قرار دیا گیا تھا، عبوری تحفظ فراہم کرتے ہوئے کہا کہ شہریت اور غیر ملکی ہونے کا تعین آئینی اور قانونی لحاظ سے نہایت اہم معاملہ ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی طور پر کسی کو بھارتی شہریت حاصل کرنے سے روکنے کا اختیار حکومتِ ہند کے پاس ہے، تاہم ہر معاملے میں قانونی عمل کی بالادستی برقرار رہنی چاہیے۔ عدالت نے اس سلسلے میں گوہاٹی ہائی کورٹ اور متعلقہ ٹریبونلز کے فیصلوں کو منسوخ کر دیا۔
آسام کے 27 افراد نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پرانی ووٹر فہرستوں میں ٹائپنگ کی غلطیوں اور ناموں کے ہجے میں معمولی فرق کو بنیاد بنا کر انہیں غیر ملکی قرار دیا گیا، جو غیر منصفانہ ہے۔ سپریم کورٹ نے انہیں راحت دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ابھی ان کی شہریت سے متعلق شواہد کا جائزہ نہیں لیا ہے۔
عدالت نے ہدایت دی کہ متعلقہ ٹریبونلز اس معاملے کی دوبارہ سماعت کریں اور اس وقت تک ان 27 افراد کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہ کی جائے۔




