نیشنل

عامر خان کی تیسری شادی لو جہاد۔ مہاراشٹرا کے وزیر کا متنازعہ بیان

ممبئی: مہاراشٹرا کے وزیر نتیش رانے نے بالی ووڈ اداکار عامر خان کی تیسری شادی سے متعلق متنازع بیان دیتے ہوئے اسے "لو جہاد” کی مثال قرار دیا۔

 

شرڈی میں اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نتیش رانے نے کہا کہ ہندو سماج کو ایسے اداکاروں کی حمایت کرنے سے پہلے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

 

انہوں نے کہا”لو جہاد کو فروغ دینے والے کون ہیں؟ کیا عامر خان ان میں شامل نہیں ہیں؟ ہندو سماج کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ایسے اداکاروں کی فلمیں دیکھنی چاہئیں یا نہیں۔ انھوں نے کہا جب معروف شخصیات اپنی نجی زندگی میں ایسے فیصلے کرتی ہیں تو ہندو سماج کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے۔

 

لو جہاد کا ‘برانڈ ایمبیسڈر’ کون ہے؟ کیا عامر خان ایسے شخص نہیں بن رہے؟ جو ہندو نوجوان ان کی فلمیں دیکھتے ہیں انہیں ایسے اداکاروں کو بڑا مقام دینے سے پہلے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔”انہوں نے مزید کہا کہ اب اس بات پر بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا عامر خان کی تیسری شادی کو "لو جہاد” کے نقطۂ نظر سے دیکھا جانا چاہیے یا نہیں۔

 

ان کے مطابق ہندو سماج کو یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ ایسے افراد کی فلمیں دیکھنی چاہئیں یا نہیں۔واضح رہے کہ "لو جہاد” ایک متنازع اصطلاح ہے  جسے بعض دائیں بازو کی تنظیمیں اس دعوے کے لیے استعمال کرتی ہیں کہ مسلمان مرد دیگر مذاہب کی خواتین کو محبت کے ذریعے شادی پر آمادہ کر کے اسلام قبول کروانے کی سازش کرتے ہیں۔

 

اسی ماہ 5 جولائی کو عامر خان نے ممبئی کے باندرہ علاقے میں واقع اپنی پالی ہل رہائش گاہ پر ایک مختصر تقریب میں گوری اسپریٹ سے شادی کی تھی۔ یہ عامر خان کی تیسری شادی ہے۔ اس سے قبل ان کی پہلی شادی رینا دتہ اور دوسری شادی فلم ساز کرن راؤ سے ہوئی تھی۔

 

اب تک عامر خان نے نتیش رانے کے ان بیانات پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔نتیش رانے کے اس بیان پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button