تمل ناڈو میں پولیس انسپکٹر نے 5 کروڑ روپے رشوت لی – رقم کی گنتی کی ویڈیو وائرل، سی بی سی آئی ڈی نے کیا گرفتار
چنائی: تاملناڈو کے تنجاوُر میں ایک خانگی ہاسپٹل کے پارٹنرس کے درمیان تنازعہ کی یکسوئی کے نام پر 5 کروڑ روپے رشوت لینے کے الزام میں پولیس انسپکٹر سکومارن کو سی بی سی آئی ڈی نے گرفتار کرلیا ہے۔ اب اس معاملہ میں رقم کی لین دین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سنسنی پھیل گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں اعلیٰ پولیس عہدیداروں کا کردار بھی زیرِ شبہ ہے اور انہی کی ہدایت پر انسپکٹر نے معاملہ کی یکسوئی کی تھی۔
تفصیلات کے مطابق، تنجاوُر کے رگومان نگر سے تعلق رکھنے والے شراونن نے چند دیگر افراد کے ساتھ مل کر ایک خانگی ہاسپٹل قائم کیا تھا۔ بعد ازاں پارٹنرس کے درمیان مالی لین دین کو لے کر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ دونوں فریقوں نے آئی جی سے شکایت کی، جس پر پولیس نے تحقیقات کرتے ہوئے شراونن اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ بعد میں کیس سی بی سی آئی ڈی کے حوالے کردیا گیا۔ شراونن نے الزام لگایا کہ پولیس یکطرفہ کارروائی کررہی ہے اور مقدمہ سے نجات دلانے کے لئے اس سے 5 کروڑ روپے طلب کئے گئے۔
شراونن کے مطابق، اس نے 3.75 کروڑ روپے نقد اور باقی 1.70 کروڑ روپے کا چیک انسپکٹر سکومارن کو دیا۔ اس شکایت پر 10 اکتوبر کو سی بی سی آئی ڈی نے پولیس افسر کی رہائش گاہ پر دھاوے کرتے ہوئے اہم دستاویزات اور ویڈیوز ضبط کیں۔ اسی دن سکومارن کو گرفتار کرلیا گیا۔
تازہ طور پر منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں میز پر نوٹوں کی گڈیاں رکھی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک شخص کرسی پر بیٹھا ہے، جبکہ ایک خاتون سمیت تین افراد ایک جانب اور دیگر تین افراد دوسری جانب کھڑے ہیں۔
ویڈیو میں ایک شخص کو میز پر رکھی نوٹوں کی گڈیاں گنتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، تھیلوں میں موجود نقد رقم کی ویڈیو بھی موبائل فون کے ذریعہ بنائی گئی تھی۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد معاملہ نے مزید سنگین رخ اختیار کرلیا ہے۔



